صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب إِبَاحَةُ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الإِنْسَانِ: باب: عورتوں کو ضروری حاجت کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ : وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ؟ قَالَتْ : فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في بيتي ، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت ، فقالت : يا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ : فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي الْبَرَازَ .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اپنی ضرورت انسانی پورا کرنے کے لیے نکلیں اور وہ بھاری بھر کم عورت تھیں، عورتوں سے ان کا جسم لمبا تھا، جاننے والوں سے وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا، اے سودہ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے مخفی نہیں رہ سکتیں، سو آپ سوچیں، آپ کیسے باہر نکلیں گی، وہ وہیں سے واپس پلٹ گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے اور آپ شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے، اور آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، حضرت سودہ داخل ہو کر کہنے لگیں، اے اللہ کے رسول! میں نکلی تو عمر نے مجھے یہ یہ کہا تو آپ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، پھر یہ کیفیت دور ہوئی، ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے اسے رکھا نہ تھا، سو آپ نے فرمایا: ”تمہیں قضائے حاجت کے لیے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔‘‘ ابوبکر کی روایت میں ہے، اس کا جسم عورتوں سے بلند تھا، ابوبکر نے اپنی حدیث میں ہشام سے یہ اضافہ بھی بیان کیا، وہ قضائے حاجت کے لیے کھلے میدان میں جانے کے لیے نکلیں۔
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا ، قَالَ : وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى .امام صاحب کو یہی روایت ایک اور استاد نے سنائی، اس میں ہے، وہ ایک ایسی عورت تھی جو لوگوں سے اپنے جسامت کے اعتبار سے بلند و بالا تھی، اور اس میں یہ ہے، آپ شام کا کھانا کھا رہے تھے۔
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَح ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْجُبْ نِسَاءَكَ ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً ، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً ، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ " .عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتیں تو ”المناصع“ کی طرف جاتی تھیں، وہ دور ایک کھلی، بڑی جگہ ہے۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی حکمت کی بنا پر) ایسا نہیں کرتے تھے، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت (قضائے حاجت کے لیے) باہر نکلیں، وہ دراز قد خاتون تھیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہو جائے، پکار کر ان سے کہا: سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جَسِيمَةً: بھاری بھرکم۔
(2)
تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا يا یفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمها: وہ قد آور تھیں، ان کا جسم عورتوں سے بلند تھا، اس لیے پردہ کرنے کے باوجود، وہ واقف کاروں، سےچھپ نہیں سکتی تھیں۔
(3)
عَرْقٌ: چونڈنے والی ہڈی۔
(4)
الْبَرَازَ: کھلا میدان۔
(5)
براز: جسم سے نکلنے والا فضلہ، پاخانہ۔
فوائد ومسائل: عربوں کے ہاں معاشرتی مجالس اور دعوتوں میں عورت، مرد اکٹھے شریک ہو جاتے تھے اور اس قسم کی محافل اور مجالس میں ہر قسم کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور مل بیٹھ کر کھا پی لیتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اجنبی اور غیر محرم مرد حریم نبوی کو دیکھیں، اس لیے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ اپنی ازواج کو پردہ میں رکھیے اور اس کی خاطر ایک رات قضائے حاجت کے لیے نکلنے پر ٹوکا، تاکہ پردہ کا حکم نازل ہو، اس پر پردہ کے ابتدائی احکام نازل ہوئے، جن میں ازواج مطہرات کو مخاطب کیا گیا، فرمایا: ’’اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور جاہلیت کے سابقہ انداز کی طرح اپنی زینت کی نمائش نہ کرو۔
‘‘ احزاب، آیت 22۔
اس سلسلہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 53 تا 55 نازل ہوئیں، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مردوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کسی ضرورت کے تحت جانا پڑے تو انہیں کن آداب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، ایک ٹکڑا یہ ہے، ’’اور جب تمہیں ازواج نبی سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردہ کے پیچھے رہ کر مانگو، یہ بات تمہارے دلوں کے لیے بھی پاکیزہ تر ہے اور ان کے لیے بھی۔
‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں اگرچہ براہ راست خطاب تو ازواج مطہرات کو ہے، کیونکہ معاشرتی اصلاح کا آغاز آپ ہی کے گھروں سے کیا گیا، لیکن مراد تمام امت کی خواتین ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پوری امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہیں، اگر نعوذ باللہ یہ نہیں ہے کہ ازواج مطہرات کے دل تو پاک رکھنے کے لیے پردے کے احکام کی ضرورت تھی اور دوسری عورتوں کے دل پاک تھے، نیز ازواج نبوی کو نظر بد سے دیکھا جا سکتا تھا اور دوسری عورتوں پر کوئی نظر بد نہیں ڈالتا تھا، اس لیے ان کے گھروں میں دندناتا ہوا داخل ہو سکتا ہے، ان آیات کا ظاہری تقاضا یہی ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی رہیں اور گھر سے باہر نہ نکلیں، لیکن عورتوں کی طبعی ضروریات کے لیے باہر نکلنا ہی پڑتا ہے، اس لیے ایک دن حضرت سودہ پردہ کرتے ہوئے، اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلیں، لیکن چونکہ وہ بھاری بھر کم اور قد آور تھیں، اس لیے وہ پردہ میں بھی چھپ نہیں سکتی تھیں، اس لیے اس دفعہ پھر حضرت عمر نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، اے سودہ، آپ چھپ نہیں سکتیں، اس لیے آپ کو پردہ میں بھی باہر نہیں نکلنا چاہیے، لیکن حضرت عمر کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور سورہ احزاب کی آیت (نمبر 59)
اتری، ’’اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو یہ ہدایت کر دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے پلو لٹکا کر نکلیں، اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے۔
‘‘ اس طرح اپنی ضرورت کے تحت بڑی چادر اوڑھ کر جس میں جسم سر تا پا ڈھپا ہو، نکلنے کی اجازت دے دی گئی اور اس کو آپﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں ضرورت کے تحت نکلنے کی اجازت دے دی گئی۔
‘‘ سورہ احزاب کی ان آیات سے معلوم ہوا، مسلمان عورت کی اصل جگہ اس کا گھر ہے، اس کو محض سیر سپاٹے تفریح اور نمودونمائش کے لیے زیب و زینت کے ساتھ بن سنور کر گھر سے نہیں نکلنا چاہیے، ہاں طبعی ضرورت کے لیے اگر اس کو گھر سے باہر قدم نکالنا پڑے تو پھر جلباب پہن کر باہر نکلیں اور جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں، الذی يستر من فوق الی السفل (ابن عباس)
جو اوپر سے نیچے تک تمام جسم کو ڈھانپ لیتی ہے اور حافظ ابن حزم نے المحلی ج 3 ص 217 پر لکھا ہے، ’’الجلباب في لغة العرب التی خاطبتها بها رسول صلی الله عليه وسلم، هو ما غطی جميع الجسم لا بعضه ‘‘ جلباب عربی زبان کی رو سے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خطاب کیا ہے، اس چادر کو کہتے ہیں، جو پورے جسم کو ڈھانپ لیتی ہے، نہ اس کے کچھ حصہ کو۔
گھر کے اندر رہتے ہوئے عورت کو کس قسم کا پردہ کرنا چاہیے، کیونکہ گھروں میں عزیز و اقارب، گھر کا کام کرنے والی عورتوں اور ملازموں یا بااعتماد دوستوں کو آنا پڑتا ہے، اس کے بارے میں ضروری تفصیلات یا اصولی قوانین سورۃ نور کی آیات 27 تا 31 میں بیان کئے گئے ہیں اور بعض رخصتوں کی تفصیل سورہ نور کی آیات نمبر 58 یا 68 میں بیان کی گئی ہیں، اس طرح پردہ جو معاشرتی زندگی کی اساس و بنیاد ہے اور خانگی زندگی کی تمام خوشیاں اور مسرتیں اس سے وابستہ ہیں، قرآن مجید میں اس کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں، تاکہ مسلمانوں کے اندر عریانی و فحاشی، بے حیائی اور بے شرمی کے مظاہر سے اخلاقی اقدار کا تیاپانچہ نہ ہو جائے اور اس کی مزید تشریح و توضیح احادیث نبوی میں کر دی گئی ہے، قرآنی آیات کی تشریح و توضیح کے لیے دیکھئے، (’’قرآن میں پردے کے احکام‘‘ از مولانا امین اصلاحی مرحوم)
اور مکمل تفصیلات کے لیے دیکھئے، تفصیل الخطاب فی تفسیر آیات الحجاب)
مفتی محمد شفیع مرحوم اور پردہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم۔
(قسطلانی)
1۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت غیرت مند تھے وہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے متعلق اجنبی لوگوں کے اطلاع پانے سے نفرت کرتے تھے۔
ان کی شدید خواہش تھی کہ انھیں پردے میں رکھا جائے حتی کہ انھوں نے صراحت کے ساتھ کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی ازواج کو پردے میں رکھیں یہاں تک کہ پردے کی آیات نازل ہوئیں۔
2۔
اس پردے کو حجب ابدان کہا جاتا ہے کہ جسم کا کوئی حصہ بھی ظاہر نہ ہو لیکن اس پردے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تسلی نہ ہوئی آپ کی خواہش تھی کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کی شخصیت بھی چھپی ہو۔
اسے حجب اشخاص کہتے ہیں۔
اسی لیے انھوں نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق فرمایا کہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! ہم نے تجھے پہچان لیا ہے لیکن اس مرتبہ آپ کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو پردے میں رہتے ہوئے قضائے حاجت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہے تا کہ انھیں مشقت نہ ہو۔
اللہ اعلم۔
اسی لئے اسلام نے اس بارے میں تنگی نہیں رکھی ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ شرعی حدود میں پردہ کر کے عورتیں باہر نکلیں۔
(1)
جن امور کے لیے عورتوں کا باہر جانا مباح ہو، مثلاً: والدین کی زیارت اور عزیز واقارب سے ملاقات تو ایسے کاموں کے لیے انھیں باہر جانے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ ضروری حاجات کے لیے بھی ان کا باہر جانا جائز ہے۔
(2)
آج کے نازک دور میں ضروریات زندگی اور معاشی جد و جہد اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اکثر مواقع پر عورتوں کا بھی گھر سے باہر نکلنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں اسلام نے کوئی تنگی نہیں رکھی، ہاں یہ ضروری ہے کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے پردہ کر کے باہر نکلیں۔
والله اعلم
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ . . .»
”. . . وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیویوں سے) فرمایا کہ تمہیں قضاء حاجت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْبَرَازِ:: 147]
آیت حجاب کے بعد بھی بعض دفعہ رات کو اندھیرے میں عورتوں کا جنگل میں جانا ثابت ہے۔ [فتح الباري]
1۔
عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ قضائے حاجت کے لیے باہرمیدانی علاقوں کا رخ کرتے تھے حتی ٰ کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ علیهن اجمعین بھی اس مقصد کے لیے باہر جانے کی عادی تھیں۔
عربوں کے ہاں مکانات میں قضائے حاجت کے انتظام کو ناپسند خیال کیاجاتا تھا۔
اس عنوان میں بتایا گیا ہے کہ ازواج مطہرات اگر اپنی ضرورت کے پیش نظر باہرجائیں تو اس کی کیا صورت ہو؟ اگر دن کے وقت جائیں یا بے حجاب نکلیں تو یہ ان کے خلاف شان ہے، چنانچہ اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ عورتیں ایک الگ میدان میں رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے جاتی تھیں اورانھوں نے اپنی عادت بھی کچھ ایسی بنالی تھی کہ دن کے اوقات میں اس کی ضرورت ہی پیش نہ آتی تھی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے اسی صورت کا جواز ثابت فرمایا ہے۔
2۔
پردے سے متعلق آیات کے نزول میں کچھ تعارض ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک آیت حجاب نازل نہیں ہوئی تھیں جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت حجاب نازل ہوچکی تھی، (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4795)
نیز اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول آیت سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد پورا ہو گیا، جبکہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا منشا پورا نہ ہوسکا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں قضائے حاجت کے لیے باہرجانے کی اجازت ہے۔
یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منشا کے خلاف ہے۔
اس کے علاوہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ آیت حجاب کے نزول کا سبب بنا جبکہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت حجاب کا نزول سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ولیمے کے دن ہوا، چنانچہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت موجود ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4791)
دراصل حجاب کی دو قسمیں ہیں: حجاب وجوہ: (چہرے کا پردہ)
عورت جب غیر محرم کے سامنے آئے تو اپنا چہرہ ڈھانپ کر آئے۔
حجاب اشخاص: (پورے وجود کا پردہ)
عورت کی شخصیت ہی نظر نہ آئے،یعنی گھر سے باہر نہ نکلے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، آپ اپنی ازواج مطہرات رضوان اللہ عليهن اجمعین کو پردے کا حکم فرما دیں، تو آیت حجاب نازل ہوئی۔
اس سے ان کی خواہش پوری ہوگئی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4790)
آیت حجاب سورۃ الاحزاب: 53 ہے اور یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ولیمے کے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے یہ حجاب وجوہ ہے۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری خواہش تھی کہ حجاب وجوہ کی طرح حجاب اشخاص کا حکم بھی آجائے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوراستے میں ٹوکنا، اسی تناظرمیں تھا لیکن اس سلسلے میں ان کی خواہش پوری نہ ہوسکی بلکہ بذریعہ وحی بتایا گیا کہ عورتوں کو قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت ہے۔
اس تفصیل سے تضاد کی تمام صورتیں ختم ہوجاتی ہیں، تاہم اس کے بعد گھروں میں قضائے حاجت کے لیے بندوبست کر دیا گیا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غیرت تھی بلکہ آپ کے اندر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہیں زیادہ غیرت تھی، لیکن آپ اللہ کی وحی کے بغیر کسی مصلحت پر عمل نہیں فرمانا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے ضرورت محسوس کرنے کے باوجود وحی کے آنے تک پردے کی بابت کوئی حکم نہیں دیا۔
(فتح الباري: 1/ 327' 328)
➊ اس حدیث میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے اور اہل فضل اور کبار شخصیات کو ان کے مصالح، خیر خواہی کی تنبیہ کرنا اور تکرار کرنا جائز ہے۔
➋ اس میں ہڈی چوسنے کے جواز کا بیان ہے۔
➌ عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر قضائے حاجت کے لیے مخصوص جگہوں میں جانا جائز ہے، کیونکہ شریعت نے انہیں اس کی اجازت دی ہے۔
[نووي: 150/14]
➍ ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ عورتیں والدین اور عزیز و اقارب کی زیارت کے لیے جا سکتی ہیں اسی طرح ضروری حاجات کے لیے ان کا گھر سے نکلنا جائز ہے اور یہ مسجد میں نکلنے کے حکم کی طرح ہے۔
مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اجنبی عورت (غیر محرم) سے پردے کے پیچھے ہم کلام ہونا جائز ہے۔
[شرح ابن بطال: 367/13]