حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .

یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم نے سیار سے خبر دی، انہوں نے ثابت بنانی سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (انصار) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔

وحدثينيه إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

امام صاحب کو یہی روایت ایک اور استاد نے سنائی ہے۔

وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، قال : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .

شعبہ نے سیار سے روایت کی، کہا: میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کو سلام کیا۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2168
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2168 | سنن ترمذي: 2696 | سنن ابي داود: 5202

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2696 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بچوں کو سلام کرنا۔`
سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں انس رضی الله عنہ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2696]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بچوں سے سلام کرنے میں کئی فائدے ہیں: (1)
سلام کرنے والے میں تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔

(2)
بچوں کو اسلامی آداب سے آگاہی ہوتی ہے۔

(3)
سلام سے ان کی دلجوئی بھی ہوتی ہے۔

(4) ان کے سامنے سلام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

(5) وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں کہ یہ سنت رسول ہے جس پر عمل کرنا بہت اہم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2696 سے ماخوذ ہے۔