صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلاَمِ: باب: راہ میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " .حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم گھروں کے سامنے کے صحن میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر ٹھہر گئے اور فرمایا: ”تم، راستوں پر مجالس کیوں قائم کرتے ہو؟ راستوں کی مجالس سے پرہیز کرو۔‘‘ سو ہم نے عرض کیا، ہم کسی برے ارادے سے نہیں بیٹھتے، ہم باہمی مذاکرہ اور گفتگو کے لیے بیٹھے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”اگر تم راستوں پر بیٹھنے سے بچ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرو، نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو اور اچھی گفتگو کرو۔‘‘
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے (راستے کی) مجلسوں کے بغیر جن میں (بیٹھ کر) ہم باتیں کرتے ہیں، کوئی چارہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجالس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔“ لوگوں نے کہا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو (راستے سے) ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھائی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
افنة: فناء کی جمع ہے، آنگن، گھروں کے سامنے کی جگہ۔
(2)
صعدات: صعيد کی جمع ہے، راستوں کو کہتے ہیں، جس طرح طريق کی جمع طرقات ہے۔
فوائد ومسائل: راستوں پر بیٹھنے سے اجتناب اور پرہیز کرنے کا حکم آپ نے اس لیے دیا تھا کہ یہ فتنہ و فساد کا باعث بن سکتا ہے، راستہ سے اجنبی عورتیں گزرتی ہیں، انسان ان کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر، ان کو دیکھنے میں مگن ہو جاتا ہے، یا ان کے بارے میں سوچ و بچار کا شکار بن جاتا ہے، ان کے بارے میں کسی غلط فہمی اور بدگمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور شہوت انگیز خیالات کا اسیر ہو جاتا ہے، گزرنے والوں کو بعض دفعہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، اور ان کی چغلی و غیبت کرتا ہے، گزرنے والوں کے لیے راستہ تنگ ہو سکتا ہے، عورتیں گزرنے سے شرم محسوس کر سکتی ہیں، حالانکہ انہیں اپنے کام کاج کے لیے نکلنا ہوتا ہے، اگر کسی دوسرے کے دروازہ پر بیٹھیں گے تو ان کو آنے جانے میں دقت ہو گی، راستہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو سکتی ہے اور گھر بیٹھنے کی صورت میں ان تمام باتوں سے انسان محفوظ رہتا ہے، کیونکہ جہاں مجلس قائم ہوتی ہے، وہاں چغلی اور غیبت کا دور چلتا ہے، محض ہنسنے اور ہنسانے کے لیے فضول اور غلط حرکتیں یا باتیں کی جاتی ہیں، گزرنے والوں پر آوازے کسے جاتے ہیں، مجلس گرم کرنے کے لیے جھوٹ بولنے سے بھی احتراز نہیں کیا جاتا۔
راستہ پر بیٹھنے کے حقوق کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔