حدیث نمبر: 2159
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي " .

یزید بن زریع، اسماعیل بن علیہ اور ہشیم نے یونس سے، انہوں نے عمرو بن سعید سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔

وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

عبدالاعلیٰ اور سفیان دونوں نے یونس سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2159
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2776 | سنن ابي داود: 2148

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2776 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´(غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان۔`
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2776]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ کسی مقصد وارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر بار بار نگاہ مقصدوارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اوریہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیر لیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2776 سے ماخوذ ہے۔