صحيح مسلم
كتاب الآداب— معاشرتی آداب کا بیان
باب كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا. إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا: باب: جب کوئی باہر سے پکارے اور اندر سے پوچھیں کون ہے تو اس کے جواب میں اپنا نام لے، میں ہوں کہنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : فَخَرَجَ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا أَنَا " .عبداللہ بن ادریس نے شعبہ سے انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آواز دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: میں۔ آپ باہر تشریف لائے اور آپ فرما رہے تھے ”میں، میں (کیسا جواب ہے؟)“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَنَا " .وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں! (سے کیا پتہ چل سکتا ہے؟)“
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ .نضر بن شمیل، ابوعامر عقدی، وہب بن جریر اور بہز، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ان سب کی حدیث میں (یہ جملہ بھی) ہے: جیسے آپ نے اس کو ناپسند فرمایا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
تو زمخشری نے کہا، واپس لوٹ جاؤ، اجازت طلب کرنے والے نے کہا، عمر منصرف نہیں ہے، زمخشری نے کہا، اگر اس کو نکرہ بنا دیا جائے تو وہ منصرف ہو جاتا ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دروازہ کھٹکھٹانا یہی اجازت طلب کرنے کے مفہوم میں ہے، پھر کسی کے سامنے آنے پر السلام علیکم کہا جائے۔
گھنٹی بجانے کو اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے، نیز دستک دینے والے کو اپنا نام یا عرف بتانا چاہیے۔
دریافت کرنے پرمیں، میں کہنا خلاف ادب اور ناکافی تعارف ہے۔
(2)
حدیث میں مذکورہ کلمہ ’’میں، میں‘‘ اس لیے پسند نہ آیا کہ اس میں سوال کا جواب نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا: میں جابر ہوں، چنانچہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر کہا تھا: قربان جاؤں! میں بریدہ ہوں۔
(الأدب المفرد، حدیث: 803)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: ” کون ہے؟۔“ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ” میں میں (کیا ہے؟) “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2711]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ اجازت طلب کرتے وقت اگر گھر والے یہ جاننا چاہیں کہ آنے والا کون ہے تو ’’ میں‘‘ کہنے کے بجائے اپنا نام اور اگر کنیت سے مشہور ہے تو کنیت بتلائے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: ” میں ہوں “ آپ نے فرمایا: ” میں، میں “ (کیا؟) گویا کہ آپ نے (اس طرح غیر واضح جواب دینے) کو برا جانا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5187]
1۔
دروازہ کھٹکھٹانا بھی اجازت طلب کرنے کے معنٰی میں ہے اور صحیح ہے اور پھر کسی کے سامنے آنے پر السلام علیکم کہے۔
2۔
دستک کے جواب میں دستک دینے والے آدمی کو اپنا نام یا عرف بتانا چاہیے’’میں میں‘‘ کہنا خلاف ادب ہے اور ناکافی تعارف ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے (مکان کے اندر سے) پوچھا: ” کون ہو “؟ میں نے عرض کیا: ” میں “، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں، میں کیا؟ (نام لو)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3709]
فوائد و مسائل:
(1)
اجازت طلب کرنے والے سے پوچھا جائےکون ہے؟ تو جواب میں اپنا نام یا لقب اور کنیت وغیرہ (جو چیز زیادہ معروف ہو)
بتانا چاہیے۔
(2)
نبی ﷺ کا میں میں فرمانا صحابی کے جواب پر ناپسندیدگی کا اظہار تھا یعنی یہ طریقہ درست نہیں۔
(3)
دروازہ کھٹکھٹانا یا گھنٹی بجانا بھی اجازت طلب کرنے کے مفہوم میں داخل ہے۔
جب کوئی دروازے پر آ کر نام پوچھے تو سلام کر کے گفتگو کی جائے۔