حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال : جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، هَذَا أَبُو مُوسَى ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ هَذَا الْأَشْعَرِيُّ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيَّ رُدُّوا عَلَيَّ فَجَاءَ ، فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى : مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ ، قَالَ سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " ، قَالَ : لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ ، فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ عُمَرُ : إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً ، فَلَمْ تَجِدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ ، قَالَ يَا أَبَا مُوسَى : مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ : عَدْلٌ ، قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ : مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ .

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں گئے اور کہا، السلام عليكم، یہ عبداللہ بن قیس اجازت چاہتا ہے تو انہوں نے اجازت نہ دی تو اس نے دوبارہ کہا، السلام عليكم، یہ ابو موسیٰ حاضر ہے، پھر تیسری دفعہ کہا، السلام عليكم، یہ اشعری موجود ہے، پھر وہ واپس پلٹ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میرے پاس واپس لاؤ، میرے پاس لوٹاؤ تو وہ حاضر ہوئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے ابو موسیٰ! واپس کیوں چلے گئے؟ ہم تو مشغول تھے، ابو موسیٰ ؓ نے کہا میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ ”اجازت تین دفعہ طلب کی جائے، اگر تمہیں اجازت مل جائے، (تو ٹھیک) وگرنہ واپس لوٹ جاؤ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اس پر دلیل پیش کرو، وگرنہ میں یہ یہ کروں گا، ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے (ساتھیوں سے) کہا، اگر اسے بینہ مل گئی تو وہ شام کے وقت منبر کے پاس ہوں گے، اگر اسے بینہ نہ ملی تو تمہیں وہ نہیں ملیں گے، جب شام کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو انہوں نے ابو موسیٰ کو موجود پایا، پوچھا، اے ابو موسیٰ! آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ کو شہادت مل گئی؟ انہوں نے کہا، جی ہاں، ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، وہ مجسمہ عدل ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اے ابو طفیل (حضرت ابی کی کنیت ہے) یہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا، اے ابن الخطاب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے، اس لیے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے عذاب کا باعث نہ بنیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، سبحان اللہ (اس میں عذاب کی کیا بات ہے) میں نے تو ایک بات سن کر اس کی تحقیق کرنا پسند کیا۔

وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَيبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ .

علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: تو انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابومنذر! (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابن خطاب! تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عذاب نہ بنیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں گئے اور کہا، السلام عليكم، یہ عبداللہ بن قیس اجازت چاہتا ہے تو انہوں نے اجازت نہ دی تو اس نے دوبارہ کہا، السلام عليكم، یہ ابو موسیٰ حاضر ہے، پھر تیسری دفعہ کہا، السلام عليكم، یہ اشعری موجود ہے، پھر وہ واپس پلٹ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میرے پاس واپس لاؤ، میرے پاس لوٹاؤ تو وہ حاضر ہوئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے ابو موسیٰ! واپس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5633]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ انتہائی بارعب اور صاحب جلالت شخصیت تھے، اس کے باوجود حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انتہائی جراءت اور بے باکی سے ان کے ابو موسیٰ کو دھمکی دینے پر، ان کے سامنے ان پر تنقید کی کہ آپ کا یہ رویہ، ان کے لیے تکلیف دہ ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صفائی پیش کی کہ میرا مقصد حضرت ابو موسیٰ کو مہتم قرار دینا نہیں تھا، محض تحقیق کی جستجو تھی۔
حضرت ابو سعید کی گواہی کے بعد پھر یہ واقعہ پیش کیا کیونکہ وہ بھی ساتھ آ گئے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2154 سے ماخوذ ہے۔