حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا ، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ ، فَرَجَعْتُ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ : أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَاذْهَبْ بِهِ .

عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ .

قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا ، حَتَّى وَقَفَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ ؟ ، قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، قَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا " ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حاضر تھے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ناراضی کی حالت میں آ کر رک گئے اور کہنے لگے، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”اجازت تین دفعہ طلب کی جائے، اگر تجھے اجازت مل جائے (تو ٹھیک) وگرنہ لوٹ جاؤ۔‘‘ حضرت ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اس کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا، کل میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے تین دفعہ اجازت طلب کی، مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ آیا، پھر آج میں ان کے ہاں حاضر ہو کر ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ میں گزشتہ کل حاضر تھا اور تین دفعہ سلام عرض کر کے لوٹ گیا تھا، انہوں نے کہا، ہم نے تمہاری آواز سن لی تھی اور ہم اس وقت مصروف تھے تو آپ نے اجازت طلب کرنے پر اصرار کیوں نہ کیا، حتی کہ آپ کو اجازت دے دی جاتی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسے سنا تھا، اس کے مطابق اجازت طلب کی، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! میں تمہاری پشت اور تمہارے پیٹ کو درے سے تکلیف تکلیف سے دوچار کروں گا الا یہ کہ تم اس پر گواہی دینے والے کو پیش کرو تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، آپ کے ساتھ ہم سے سب سے کم سن ہی جائے گا، اے ابو سعید! اٹھو تو میں اٹھا، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے کہا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سن چکا ہوں۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَانَا ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ " ، قَالَ : فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو سَعِيدٍ .

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازہ پر آئے اور اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دل میں کہا، ایک دفعہ، پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سوچا، دو دفعہ، پھر انہوں نے تیسری دفعہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، تین دفعہ ہو گیا، پھر ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوایا اور کہا، اگر یہ ایسی چیز ہے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو شہادت پیش کرو، وگرنہ میں تمہیں عبرت بنا دوں گا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، سو وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اجازت، تین دفعہ طلب کی جاتی ہے؟‘‘ تو حاضرین ہنسنے لگے، میں نے کہا، تمہارا مسلمان بھائی تمہارے پاس گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ چلو، میں اس عقوبت میں تمہارا ساتھی ہوں تو وہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے، یہ ابو سعید (میرا گواہ ہے)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كلاهما ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا : سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ .

شعبہ نے ابوسلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابونضرہ سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے انہیں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جس طرح بشر بن مفضل نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ، فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، قَالَ : لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ " .

یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ .

امام صاحب کو یہ حدیث دو اور اساتذہ نے بھی سنائی، لیکن نضر نے اپنی حدیث میں، ”بازاروں کی خرید و فروخت کی مشغولیت‘‘ کا تذکرہ نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2153 | سنن ترمذي: 2690 | سنن ابي داود: 5180 | سنن ابن ماجه: 3706 | مسند الحميدي: 751 | مسند الحميدي: 791

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2153 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حاضر تھے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ناراضی کی حالت میں آ کر رک گئے اور کہنے لگے، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ’’اجازت تین دفعہ طلب کی جائے، اگر تجھے اجازت مل جائے (تو ٹھیک) وگرنہ لوٹ جاؤ۔‘‘ حضرت ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اس کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5628]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے بینہ کا مطالبہ دوسرے دن کیا تھا، چونکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن حضرت ابو موسیٰ اشعری کو طلب کیا تھا اور ان کے جواب پر بینہ کا مطالبہ کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی مشغولیت سے فارغ ہو کر، ان کے بارے میں پوچھا اور جب یہ بتایا گیا تھا کہ وہ آ کر چلے گئے ہیں تو ان کی طرف پیغام رساں بھیجا، لیکن وہ نہ مل سکے اور خود ہی دوسرے دن حاضر ہو گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2153 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2690 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟ عمر رضی الله عنہ ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2690]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ بسا اوقات ایک ادنی شخص کو علم دین کی وہ بات معلوم ہو سکتی ہے جو کسی بڑے صاحب علم کو معلوم نہیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ تین بار اجازت طلب کرنے پر اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2690 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5180 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5180]
فوائد ومسائل:

اجازت طلب کرنے کے لئے اصل شرعی ادب اسلام علیکم کہنا ہے اور تین بار سلام کہہ کر اجازت مانگی جائے۔
اسی پر دستک دینے یا گھنٹی بجانے کو قیاس کرنا چاہیے۔
اس سے زیادہ خلاف ادب ہے، نہ معلوم گھر والا کسی خاص کام میں مشغول ہو یا آرام کر رہا ہو، تو اسے پریشان نہ کیا جائے۔
علاوہ ازیں دستک دینے یا گھنٹی بجانے میں بھی بے ادبی یا بد تمیزی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اتنی زور سے دستک دیتے ہیں کہ اڑوس پروس کے لوگوں کا سکون بھی بر باد ہو جاتا ہے۔
اسی طرح بعض لوگ گھنٹی اس طرح تسلسل سے بجاتے ہیں جیسے انہوں نے مردوں کو زندہ کرنا یا بہروں کو سنانا ہے یہ بے ہوگیاں ہماری اخلاقی پستی کی غماز ہیں۔

2: اجازت یا جواب نہ ملنے پر بلاوجہ ناراض انہیں ہونا چاہیے، بلکہ واپس آجانا چاہیے۔

3: حضرت عمر رضی اللہ احادیث رسول کی روایت میں اس لئے شدید تھے کہ لوگ کہیں یقین واعتماد کے بغیر رسول ﷺکی طرف سے نسبت نہ کرنے لگیں اور اللہ انہیں جزائے خیر دے یہ ان کی بہت بڑی دانائی کی سختی تھی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5180 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3706 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے) اجازت لینے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور بلا کر پوچھا کہ آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے ہی تین مرتبہ اجازت طلب کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگر ہمیں تین دفعہ میں اجازت دے دی جائے تو اندر چلے جائیں ورنہ لوٹ جائیں، تب انہوں نے کہا: آپ اس حدیث پر گواہ لائیں ورنہ میں آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں گا یعن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3706]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا منع ہے۔

(2)
اجازت طلب کرنے کا طریقہ یہ۔
السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتاو ہوں؟ (سنن أبي داؤد، باب كيف: الإستئدان، حديث: 5177)

(3)
اگر ایک بار اجازت مانگنے پر جواب نہ ملے تو دوسری اور تیسری بار اجازت طلب کرنی چاہیے۔
آج کل اجازت مانگنے کا طریقہ مختلف ہو گیا ہے جیسے گھنٹی بجانا، یہ بھی وقفے وقفے سے صرف تین بار بجائی جائے۔
اگرکوئی جواب نہ ملے تو واپس چلا جائے۔
گھنٹی بجا بجا کر سارے محلے کو پریشان نہ کیا جائے۔

(4)
اگر تین بار اجازت مانگنے پر بھی اجازت نہ ملے تو اہل خانہ سے ناراض ہوئے بغیر واپس ہو جانا چاہیے۔
ممکن ہے صاحب خانہ گھر میں موجود نہ ہو یا کوئی ایسی معقول وجہ ہو جس کی بنا پر وہ اجازت نہ دے رہا ہو۔

(5)
حضرت عمر ؓ نے گواہ اس لیے طلب فرمایا کہ وہ مزید اطمینان چاہتے تھے۔
اور اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ جب دیکھیں گے کہ عمر ؓ حدیث رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی غیر ذمہ دار لوگ کا رویہ رکھتے ہیں تو ہر شخص بالا تحقیق احادیث بیان کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔
اس طرح غیرذمہ دار لوگ غلط الفاظ کے ساتھ یا اپنے پاس سے بنا کر احادیث بیان نہیں کریں گے۔

(6)
حدیث دین کی بنیاد ہے لہٰذا صحیح اور ضعیف میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔

(7)
احادیث کی کتابوں میں ضعیف احادیث موجود ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمہ حدیث ہر حدیث کے ساتھ سند بیان کیا کرتے تھے جس سے سامعین کو حدیث کے درجے کا علم ہو جاتا تھا۔
بعض اوقات اس لیے ضعیف حدیث بیان کر دیتے تھے کہ ممکن ہے اس حدیث کی دوسری سند مل جائے جس سے اس کا ضعف ختم ہو کر حدیث قابل قبول ہو جائے تا ہم ہر وہ حدیث جو ایک سے زیادہ سندوں سے مروی ہو قابل قبول نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے بعض شروط کا پایا جانا ضروری ہے جس کی تفصیل اصول حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3706 سے ماخوذ ہے۔