صحيح مسلم
كتاب الآداب— معاشرتی آداب کا بیان
باب جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلاَطَفَةِ: باب: غیر کے لڑکے کو بیٹا کہنا اور ایسے کلمہ کو مہربانی کے طور پر مستحب ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِي : " أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے بیٹے! تمہیں اس (دجال) سے کیا بات پریشان کر رہی ہے؟ تمہیں اس سے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔“ کہا: میں نے عرض کی: لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ، قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيد َ وَحْدَهُ .وکیع، ہشیم، جریر اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے (اے میرے بیٹے) کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے کارکن تھے۔
سنہ56ھ میں وفات پائی۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
دجال موعود کا آنا برحق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو مختلف آزمائشوں سے دوچار کر کے ان کا امتحان لیتا ہے۔
ابھی آزمائشوں میں سے ایک فتنہ دجال بھی ہے۔
اسے اللہ تعالیٰ نے بہت قدرت دی ہو گی۔
وہ اپنے ماننے والوں کے لیے ٹھنڈی ہوائیں چلائے گا۔
بارشیں برسائے گا۔
زمین سے پیداوار اور اناج اگائےگا۔
الغرض ان کے لیے وہ خوشحالی کا سامان مہیا کرے گا اور جو لوگ اسے جھوٹا کہیں گے وہ انھیں قحط سالی اور فقرہ و فاقے میں مبتلا کر دے گا۔
اور انھیں اپنے ایک ہاتھ مین موجود آگ میں پھینک دے گا جو در حقیقت جنت ہوگی۔
لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ کی اجازت نہ ہوتو وہ کچھ بھی نہیں کر سکے گا ایک حدیث میں ہے کہ جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہو گا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3450)
(1)
يحرق البيت: بیت اللہ جلایا جائے، حجاج کی منجنیقوں سے بیت اللہ جل چکا ہے۔
(2)
يبعث الله عيسيٰ ابن مريم: احادیث صحیحہ کی بنا پر اہل سنت کے نزدیک، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری دور میں آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے، آپ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے، بعض معتزلہ اور جہمیہ نے اللہ کے فرمان، خاتم النبين اور آپ کے قول، لانبي بعدي، سے ان احادیث کا انکار کیا ہے، حالانکہ آیت اور حدیث کا مطلب تو یہ ہے، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، (اور عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد تو پیدا نہیں ہوئے، ان کو تو نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے، آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی، آپ کے بعد آنے والا ہر مدعی نبوت جھوٹا ہوگا۔
(3)
كبد جبل: پہاڑ کے درمیان، کیونکہ کسی چیز کا کبد اس کا درمیان ہوتا ہے، (4)
في خفة الطير، واحلام السباع، احلام، حلم کی جمع ہے، عقل، مقصد یہ ہے کہ وہ شروفساد اور خواہشات نفس کے پورا کرنے میں بڑے تیز اور جلد باز ہوں گے اور ایک دوسرے پر ظلم وزیادتی کرنے میں درندہ صفت ہوں گے۔
(5)
اصغي: جھکانا، (6)
ليت، گردن کی جانب، (7)
دار: موسلادھار، بہنے والا، یعنی رزق وافر ہوگا۔
(8)
يكشف ساق، اللہ تعالیٰ اپنے پنڈلی ظاہر کرے گا، اس کی حقیقت اور کیفیت کو جاننا، اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، (ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی ” مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے “، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو “؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4073]
فوائد و مسائل:
(هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ)
کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے، یعنی دجال اتنا ذلیل ہے کہ اللہ اسے یہ چیزیں عطا نہیں فرمائے گا بلکہ یہ محض ظاہری دھوکا ہو گا۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ممکن ہے کہ جب اللہ کے ہاں ذلیل ہونے کے باوجود اسے بڑے بڑے شعبدے دکھانے کا اختیار دیا گیا ہے تو کھانا اور پانی تو معمولی چیز ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ دجال اتنا ذلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان شعبدوں کو اس کی سچائی کا ثبوت نہیں بننے دے گا بلکہ ایسی چیزیں ظاہر فرما دے گا جن سے اس کا جھوٹا ہونا واضح ہو جائے، مثلاً: اس کے کفر کی واضح علامت (پیشانی پر ’’ ک، ف، ر‘‘ لکھا ہونا)
، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ لے گا۔ (فتح الباری: 13/ 116)
صحيح بخاری (7122) میں اس حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں: اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ “
قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ایک علامت فتنہ دجال ہے۔ لفظ دجال دجل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: دھوکہ دینا، حق کو چھپانا اور شعبدہ بازی دکھانا۔ قرب قیامت دجال ظاہر ہوگا اور مختلف شعبدے دکھاۓ گا، یہاں تک اپنے آپ کو الٰہ کہنے کا دعوی کرے گا لیکن وہ خود کانا ہوگا۔ اس کی پیشانی پرک ف ر لکھا ہوگا۔ دجال کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگو! جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو بسایا ہے بلاشبہ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑا فتنہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا ہے اس نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا ہے “۔ [سنن ابن ماجه: 4077]