صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مُوَالاَةِ الْمُؤْمِنِينَ وَمُقَاطَعَةِ غَيْرِهِمْ وَالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ: باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 215
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ ، يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا ، لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ ، وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ " .حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپائے بغیر بلند آواز سے فرمایا: ”فلاں کی اولاد! میری عزیز و دوست نہیں، میرا ساتھی اور دوست اللہ تعالیٰ اور نیک مسلمان ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ نے چھپائے بغیر بلند آواز سے فرمایا: ’’فلاں کی اولاد! میری عزیز و دوست نہیں، میرا ساتھی اور دوست اللہ تعالیٰ اور نیک مسلمان ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:519]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
"وَلِيٌّ" کا معنی: ہمدم، رفیق، دوست، حمایتی اور معاو ن وناصر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ نبی اکرم ﷺ کا عزیز، رفیق اور معاون وناصر اور رشتہ دار وہی ہے، جو ایمان ہونے کے ساتھ آپ کے دین پر عمل پیرا ہے اور نیک ہے، اگرچہ اس کا آپ سے نسبی تعلق نہیں ہے۔
اور جو ایماندار اور نیک نہیں ہے، وہ آپ کا عزیز، رفیق یا رشتہ دار نہیں ہے، اگر چہ نسب کے اعتبار سے آپ کاقریبی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے کے بارے میں جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ (ھود: 46)
’’وہ تیرے خاندان کا فرد نہیں ہے، اس کی سفارش ایسا عمل ہے جو اچھا نہیں ہے۔
‘‘ اور ایسے شخص سے آپ نے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار فرمایا ہے، اور ایک مسلمان کے لیے بھی یہی طرز عمل زیبا ہے، کہ وہ کافروں اور فاسقوں سے محبت ومودت کا تعلق نہ رکھے، اگرچہ وہ اس کے قریبی ہی کیوں نہ ہو۔
اسی عموم کے لحاظ سے راوی نے اس شخص کا نام نہیں لیا، تاکہ اس کی مسلمان اورنیک اولاد کو اس سے اذیت نہ پہنچے، یا اس سے غلط مطلب نہ اخذ کر لیا جائے، اس لیے اس کو خواہ مخواہ متعین نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے اپنے غلط مفروضہ پر بد مذہب اور گمراہ فرقہ کی آڑ میں مسلمانوں کے جلسہ اور مجالس میں حاضری سے روکنا، اپنی بھیڑوں کو قابو رکھنے کا ایک حیلہ تو ہو سکتا ہے، حدیث کا تقاضا اور مطلب نہیں۔
"وَلِيٌّ" کا معنی: ہمدم، رفیق، دوست، حمایتی اور معاو ن وناصر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ نبی اکرم ﷺ کا عزیز، رفیق اور معاون وناصر اور رشتہ دار وہی ہے، جو ایمان ہونے کے ساتھ آپ کے دین پر عمل پیرا ہے اور نیک ہے، اگرچہ اس کا آپ سے نسبی تعلق نہیں ہے۔
اور جو ایماندار اور نیک نہیں ہے، وہ آپ کا عزیز، رفیق یا رشتہ دار نہیں ہے، اگر چہ نسب کے اعتبار سے آپ کاقریبی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے کے بارے میں جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ (ھود: 46)
’’وہ تیرے خاندان کا فرد نہیں ہے، اس کی سفارش ایسا عمل ہے جو اچھا نہیں ہے۔
‘‘ اور ایسے شخص سے آپ نے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار فرمایا ہے، اور ایک مسلمان کے لیے بھی یہی طرز عمل زیبا ہے، کہ وہ کافروں اور فاسقوں سے محبت ومودت کا تعلق نہ رکھے، اگرچہ وہ اس کے قریبی ہی کیوں نہ ہو۔
اسی عموم کے لحاظ سے راوی نے اس شخص کا نام نہیں لیا، تاکہ اس کی مسلمان اورنیک اولاد کو اس سے اذیت نہ پہنچے، یا اس سے غلط مطلب نہ اخذ کر لیا جائے، اس لیے اس کو خواہ مخواہ متعین نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے اپنے غلط مفروضہ پر بد مذہب اور گمراہ فرقہ کی آڑ میں مسلمانوں کے جلسہ اور مجالس میں حاضری سے روکنا، اپنی بھیڑوں کو قابو رکھنے کا ایک حیلہ تو ہو سکتا ہے، حدیث کا تقاضا اور مطلب نہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 215 سے ماخوذ ہے۔