حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال : أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِهِ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الصَّبِيُّ ؟ " ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " ، قَالَ : فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ " ، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِر َ .

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا اور ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے پڑی ہوئی کسی چیز میں مشغول ہو گئے تو حضرت اسید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کے بارے میں حکم دیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر بٹھا لیا گیا اور اسے گھر لوٹا دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مشغولیت سے بیدار ہوئے تو پوچھا "بچہ کہاں ہے؟" تو حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا، ہم نے اسے واپس بھیج دیا ہے، اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے پوچھا ”اس کا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا، فلاں، اے اللہ کے رسول! آپﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اس کا نام منذر ہے۔‘‘ تو اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2149
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6191

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا اور ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے پڑی ہوئی کسی چیز میں مشغول ہو گئے تو حضرت اسید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کے بارے میں حکم دیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر بٹھا لیا گیا اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5621]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
لهي بشئي: آپ کسی چیز میں مشغول ہوگئے اور آپ کی سہولت کی خاطر بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا اور کسی دوسرے وقت گھٹی دلوانے کی نیت پر واپس بھیج دیا گیا۔
(2)
استفاق: آپ اپنی سوچ اور فکر سے بیدار ہوئے تو بچہ کو دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا۔
فوائد ومسائل: بچے کے باپ کا چچا زاد منذر بن عمرو، بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہو چکا تھا، اس لیے آپ نے نیک شگون کے لیے بچہ کا نام منذر رکھا، تاکہ وہ بھی شہید ہونے والے منذر کے نقش قدم پر چلے، یا اس کو انذار کے لیے علم نصیب ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5621 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6191 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6191. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ منذر بن ابو اسید ؓ جب پیدا ہوئے تو انہیں نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی رانوں پر رکھ لیا اور حضرت ابو اسید ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ کسی کام میں مشغول ہو گئے تو حضرت ابو اسید ؓ نے اپنے بیٹے کے متعلق حکم دیا کہ اسےاٹھا لیا جائے، چنانچہ بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر نبی ﷺ اس کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا: "بچہ کہاں ہے؟" حضرت ابو اسید ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے گھر بھیج دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: "اس کا نام کیا ہے؟" عرض کی: فلاں ہے۔ آپ نے فرمایا: "لیکن اس کا نام منذر ہے۔" چنانچہ اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6191]
حدیث حاشیہ: منذر گنہگار وں کو عذاب الہٰی سے ڈرانے والا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6191 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6191 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6191. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ منذر بن ابو اسید ؓ جب پیدا ہوئے تو انہیں نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی رانوں پر رکھ لیا اور حضرت ابو اسید ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ کسی کام میں مشغول ہو گئے تو حضرت ابو اسید ؓ نے اپنے بیٹے کے متعلق حکم دیا کہ اسےاٹھا لیا جائے، چنانچہ بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر نبی ﷺ اس کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا: "بچہ کہاں ہے؟" حضرت ابو اسید ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے گھر بھیج دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: "اس کا نام کیا ہے؟" عرض کی: فلاں ہے۔ آپ نے فرمایا: "لیکن اس کا نام منذر ہے۔" چنانچہ اسی دن آپ نے اس کا نام منذر رکھ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6191]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فالی کے طور پر بچے کا نام منذر رکھا تاکہ اللہ تعالیٰ اسے علم کی دولت عطا فرمائے اور وہ اپنی قوم کو برے انجام سے آگاہ کرے۔
(2)
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بئر معونہ میں اس کے خاندان کے ایک بزرگ منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تھے تو انہی کے نام پر ان کا نام رکھ دیا گیا تھا۔
(صحیح البخاري،المغازي، حدیث: 4093)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6191 سے ماخوذ ہے۔