حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أنهما قَالَا : " خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر ، فَقَدِمَتْ قُبَاءً ، فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ : ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ ، لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ " .

شعیب بن اسحاق نے کہا: مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا، کہا: مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا (مکہ سے) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے (یعنی حاملہ تھیں) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا، پھر ایک کھجور منگوائی۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا، پھر (اس کا جوس) ان کے منہ میں ڈال دیا۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لیے آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا۔ پھر ان سے (برکت کے لیے) بیعت کی (کیونکہ وہ کمسن تھے)۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ ، قالت : " فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ .

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، انہیں مکہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حمل ٹھہرا اور میں پورے دنون ہجرت کے لیے نکلی، میں نے مدینہ پہنچ کر قباء میں قیام کیا تو وہ قباء میں پیدا ہو گئے، پھر میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، پھر آپ نے چھوہارے منگوا لیے اور انہیں چبایا، پھر انہیں اس کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیا تو سب سے پہلی جو چیز اس کے پیٹ میں داخل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا، پھر آپ نے اسے کھجوروں کی گھٹی دی، پھر اس کے لیے دعا کی اور ان کے لیے برکت کی درخواست کی اور وہ (ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے) پہلے بچے تھے جو مہاجرین کے ہاں پیدا ہوئے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ .

علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حاملہ تھیں، پھر ابواسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2146
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بیان کرتے ہیں، ہجرت کے موقعہ پر حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا کے پیٹ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ تھے، وہ قباء پہنچیں تو وہاں عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہو گئے تو وہ اسے لے کر گھٹی دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ نے اسے اس سے پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا، پھر کھجوریں منگوائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہم کھجوریں ملنے سے پہلے کچھ دیر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5616]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، پہلے دن گھٹی دینے کے ساتھ ہی اس کا نام رکھ لینا بہتر ہے اور ساتویں دن تک نام رکھنے کی گنجائش ہے، سات دن سے زیادہ تاخیر درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2146 سے ماخوذ ہے۔