صحيح مسلم
كتاب الآداب— معاشرتی آداب کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلاَدَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلاَدَتِهِ وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ: باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کو جب وہ پیدا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں اپنے اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں؟‘‘ میں نے کہا، جی ہاں تو میں نے آپ کو چند خشک کھجوریں پکڑائیں اور آپ نے انہیں منہ میں ڈال لیا اور انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھولا اور انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ انہیں چوسنے لگا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کی محبوب چیز کھجوریں ہیں۔‘‘ اور آپﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ ابْنِي ؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَتْ : وَارُوا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا " ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَعَهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ تَمَرَاتٌ ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ (ان کی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں)۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ .حماد بن مسعدہ نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (ابن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا : لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، فَقَالَ : ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا ، قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ ، فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَتْ : فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : تَرَكْتِنِي حَتَّى تَلَطَّخْتُ ، ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا ، قَالَ : فَحَمَلَتْ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا ، فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ ، فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ ، وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : إِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ ، إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى ، قَالَ : تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ : مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا ، قَالَ : وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ ، قُلْتُ : نَعَمْ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ ، قَالَ : وَجِئْتُ بِهِ ، فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ ، فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ ، قَالَ : فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا ابوطلحہ ؓ کا ایک بیٹا جو سیدہ ام سلیم ؓ کے بطن سے تھا، فوت ہو گیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں خود نہ کہوں ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی خبر نہ کرنا۔ آخر سیدنا ابوطلحہ ؓ آئے تو سیدہ ام سلیم شام کا کھانا سامنے لائیں۔ انہوں نے کھایا اور پیا پھر ام سلیم ؓ نے ان کے لئے اچھی طرح بناؤ اور سنگھار کیا یہاں تک کہ انہوں نے ان سے جماع کیا۔ جب ام سلیم نے دیکھا کہ وہ سیر ہو چکے اور ان کے ساتھ صحبت بھی کر چکے تو اس وقت انہوں نے کہا کہ اے ابوطلحہ! اگر کچھ لوگ اپنی چیز کسی گھر والوں کو مانگے پر دیں، پھر اپنی چیز مانگیں تو کیا گھر والے اس کو روک سکتے ہیں؟ سیدنا ابوطلحہ ؓ نے کہا کہ نہیں روک سکتے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا کہ اپنے بیٹے کے عوض اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو (کیونکہ بیٹا تو فوت ہو چکا تھا)۔ یہ سن کر ابوطلحہ غصے ہوئے اور کہنے لگے کہ تم نے مجھے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ میں تمہارے ساتھ آلودہ ہوا (یعنی جماع کیا) تو اب مجھے بیٹے کے متعلق خبر دے رہی ہو۔ وہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری گزری ہوئی رات میں تمہیں برکت دے۔ ام سلیم ؓ حاملہ ہو گئیں۔ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے ام سلیم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے مدینہ میں تشریف لاتے تو رات کو مدینہ میں داخل نہ ہوتے جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم کو درد زہ شروع ہوا اور ابوطلحہ ان کے پاس ٹھہرے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ ابوطلحہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب تیرا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ساتھ میں بھی نکلوں اور جب مدینہ میں واپس داخل ہو تو میں بھی ساتھ داخل ہوں، لیکن تو جانتا ہے میں جس وجہ سے رک گیا ہوں۔ ام سلیم نے کہا کہ اے ابوطلحہ! اب میرے ویسا درد نہیں ہے جیسے پہلے تھا تو چلو۔ ہم چلے جب دونوں مدینہ میں آئے تو پھر ام سلیم کو درد شروع ہوا اور انہوں نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ میری ماں نے کہا کہ اے انس! اس کو کوئی اس وقت تک دودھ نہ پلائے جب تک تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ لے جائے۔ جب صبح ہوئی تو میں نے بچہ کو اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا میں آپ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اونٹوں کے داغنے کا آلہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا کہ شاید ام سلیم نے لڑکے کو جنم دیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آلہ ہاتھ مبارک سے رکھ دیا اور میں بچہ کو لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور مدینہ کی منگوائی اور اپنے منہ مبارک میں چبائی، جب وہ گھل گئی تو بچہ کے منہ میں ڈال دی بچہ اس کو چوسنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو انصار کو کھجور سے کیسی محبت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ .عمرو بن عاص نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ثابت نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچہ فوت ہو گیا، اور اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يهنا: هناءگندھک سے ماخوذ ہے کہ آپ اونٹ کو بذات خود گندھک مل رہے تھے، جس سے معلوم ہوا، امام کو صدقہ وزکاۃ کے اموال کا بذات خود خیال رکھنا چاہیے اور ضرورت کے تحت حیوان کو گندھک ملنا جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے، درست ہے۔
(2)
لاكهن: لوك کا معنی ہے، سخت چیز کو چبانا، یعنی آپ نے بچہ کے منہ میں ڈالنے کے لیے کھجوریں نرم کیں۔
(3)
فغر: کھولا، تاکہ اس میں چبائی ہوئی کھجوریں ڈالی جا سکیں۔
(4)
يتلمظ: زبان کو منہ میں پھیرنے لگا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، بچہ کی پیدائش کے وقت کسی نیک شخص سے اس کو گھٹی دلوانا چاہیے اور اگر گھٹی کھجوروں کی دی جائے تو بہتر ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے اور کسی صالح شخص سے نام رکھوانا بہتر ہے اور عبداللہ بہترین نام ہے اور نام پیدائش کے دن میں رکھا جا سکتا ہے۔