صحيح مسلم
كتاب الآداب— معاشرتی آداب کا بیان
باب تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الأَمْلاَكِ وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ: باب: شہنشاہ نام رکھنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، قَالَ الْأَشْعَثِيُّ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ " ، زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ ، لَا مَالِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ الْأَشْعَثِيُّ : قَالَ سُفْيَانُ : مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو ، عَنْ أَخْنَعَ ، فَقَالَ : أَوْضَعَ .سعید بن عمرو اشعثی، احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ امام احمد کے ہیں، اشعثی نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔ ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے۔“ اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: (اللہ عزوجل کے سوا کوئی (بادشاہت کا) مالک نہیں ہے۔) اشعثی کا قول ہے: سفیان نے کہا: جیسے شاہان شاہ (شہنشاہ) ہے۔ اور احمد بن حنبل نے کہا: میں نے ابوعمرو (اسحاق بن مرار شیبانی، نحوی، کوفی) سے (اخنع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: (اس کے معنی ہیں) اوضع (انتہائی حقیر)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ ، رَجُلٍ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ " .ہمیں معمر ہمام بن منبہ سے خبر دی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ حدیث (بھی) ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ گندا اور غضب کا مستحق شخص وہ ہوگا جو شہنشاہ کہلاتا ہوگا، اللہ کے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اخنع يعني اذل: ذلیل ترین، بقول خلیل۔
افجر: بدترین، قبیح۔
فوائد ومسائل: امام سفیان رحمہ اللہ نے مَلَكَ الملوك کا ترجمہ شاہان شاہ کیا ہے، جو فارسی زبان ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ صرف ملك الملوك ہی ذلیل ترین اور سب سے برا نام نہیں ہے، بلکہ اس مفہوم و معنی کا حامل کسی زبان کا نام یہی حکم رکھتا ہے، جیسے خالق الخلق، احکم الحاکمین، سلطان السلاطین، امیر الامراء اور بقول بعض ہر وہ نام جو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اس کا یہی حکم ہے، جیسے جبار، قہار، رحمٰن، قدوس وغیرہ، اس لیے شرعا یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔
ایسے نام والے قیامت کے دن بد ترین لوگ ہوں گے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4961]
علمائے کرام نے مندرجہ بالا ترکیب سے قاضی القضاۃ کہنے کہلانے کو بھی ناجائز کہا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کا ذکر ہے اور وہ «ملك الا ملاك» ہے، جسے اردو میں شہنشاہ کہتے ہیں، یعنی دنیا میں امیر سے امیر آدمی کو بھی شہنشاہ کہنا گناہ ہے، اور شہنشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویل، تشبیہ، تکییف اور تعطیل کرنا درست نہیں ہے۔