صحيح مسلم
كتاب الآداب— معاشرتی آداب کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا: باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدَ بَرَّةَ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی۔ الفاظ عمرو کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: (پہلے ام المؤمنین حضرت) جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام (برہ) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ آپ کو پسند نہ تھا کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ (نیکیوں والی) کے ہاں سے نکل گئے۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے: کریب سے روایت ہے، کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
تھا، آپ نے بره کی بجائے، جویریہ نام رکھا، کیونکہ اس میں ایک طرف پارسائی کا اظہار ہے تو دوسری طرف بدشگونی کا اندیشہ بھی موجود ہے، لیکن نیک شگون کے لحاظ سے یہ نام رکھنا درست ہو گا، جبکہ تشکیہ نفس اور اپنی پارسائی کا اظہار مقصود نہ ہو۔