حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدَ بَرَّةَ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .

عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی۔ الفاظ عمرو کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: (پہلے ام المؤمنین حضرت) جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام (برہ) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ آپ کو پسند نہ تھا کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ (نیکیوں والی) کے ہاں سے نکل گئے۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے: کریب سے روایت ہے، کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2140
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جویریہ کا نام بره تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کہا جائے، آپ کے پاس سے برہ چلی گئی، ابن ابی عمرہ کی روایت میں عن كريب عن ابن عباس [صحيح مسلم، حديث نمبر:5606]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا نام بَرة (نیکی، اطاعت)
تھا، آپ نے بره کی بجائے، جویریہ نام رکھا، کیونکہ اس میں ایک طرف پارسائی کا اظہار ہے تو دوسری طرف بدشگونی کا اندیشہ بھی موجود ہے، لیکن نیک شگون کے لحاظ سے یہ نام رکھنا درست ہو گا، جبکہ تشکیہ نفس اور اپنی پارسائی کا اظہار مقصود نہ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2140 سے ماخوذ ہے۔