صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ لاَ يَنْفَعُهُ عَمَلٌ: باب: کفر کی حالت میں مرنے والے شخص کو اس کا کوئی عمل کام نہ آئے گا۔
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ جُدْعَانَ ، كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ ؟ قَالَ : لَا يَنْفَعُهُ ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلۂ رحمی کرتا تھا، اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے نافع ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نافع نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کبھی (کسی ایک دن) بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلۂ رحمی کرتا تھا، اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے نافع ہوں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’اس کے لیے نافع نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کبھی (کسی ایک دن) بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:518]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
کافر قیامت پر ایمان ویقین نہیں رکھتا، اس لیے وہ قیامت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے کوئی کام نہیں کرتا، دنیوی نکتہ نظر سے کام کرتا ہے، اس لیے اس کو نیک اعمال کا دنیا میں فائدہ پہنچتا ہے۔
لیکن چونکہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے اور برے اعمال سے بچتا ہے، اس لیے اس کا عذاب ان کافروں کے مقابلہ میں ہلکا ہوگا، جو اچھے اعمال سے محروم ہوتے ہیں اور برے افعال کا ارتکاب کرتےہیں۔
جنت میں جانے کے لیے ایمان شرط ہے، اور ایمان سے محروم کتنے بھی اچھے اعمال، اچھے اخلاق اور حسن معاملہ سے متصف ہو اس کو ان اعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا، کہ وہ جنت میں چلا جائے۔
کافر قیامت پر ایمان ویقین نہیں رکھتا، اس لیے وہ قیامت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے کوئی کام نہیں کرتا، دنیوی نکتہ نظر سے کام کرتا ہے، اس لیے اس کو نیک اعمال کا دنیا میں فائدہ پہنچتا ہے۔
لیکن چونکہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے اور برے اعمال سے بچتا ہے، اس لیے اس کا عذاب ان کافروں کے مقابلہ میں ہلکا ہوگا، جو اچھے اعمال سے محروم ہوتے ہیں اور برے افعال کا ارتکاب کرتےہیں۔
جنت میں جانے کے لیے ایمان شرط ہے، اور ایمان سے محروم کتنے بھی اچھے اعمال، اچھے اخلاق اور حسن معاملہ سے متصف ہو اس کو ان اعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا، کہ وہ جنت میں چلا جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 214 سے ماخوذ ہے۔