حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لِي قَوْمِي : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .

منصور نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ہم (انصار) میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا، اس کی قوم نے اس سے کہا: تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے، ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے، وہ شخص اپنے بیٹے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر (کندھے پر چڑھا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے، اس پر میری قوم نے کہا ہے: ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔ بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں (جو اللہ عطا کرتا ہے، اسے) تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔“

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَسْتَأْمِرَهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَكْنُونِي بِهِ حَتَّى تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا تو ہم نے کہا، ہم تیری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی کنیت نہیں رکھیں گے، حتی کہ آپ سے مشورہ کر لیں تو وہ آپ کے پاس آیا اور عرض کی، میرا ایک بچہ پیدا ہوا ہے، تو میں نے اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے اور میری قوم نے اس کے نام پر میری کنیت رکھنے سے انکار کیا ہے، حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لے تو آپ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان (علم و مال) بانٹتا ہوں۔‘‘

حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .

خالد طحان نے حسین سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور (میں قاسم (تقسیم کرنے والا) بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَلَا تَكْتَنُوا .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام کو رکھ لو، اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو ابو القاسم اس لیے ہوں کہ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔" اور ابوبکر کی روایت میں ہے میری کنیت نہ رکھے۔‘‘

وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .

امام صاحب کو ایک اور استاد نے بتایا، آپﷺ نے فرمایا: ”میں تو قاسم ٹھہرایا گیا ہوں، تمہارے درمیان بانٹتا ہوں۔‘‘

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .

محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كِلَاهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَإِسْحاَقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ وَسُلَيْمَانُ ، قَالَ حُصَيْنٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وقَالَ سُلَيْمَانُ : فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، محمد بن عمرو بن جبلہ اور بشر بن خالد نے محمد بن جعفر سے، محمد بن جعفر، ابن ابی عدی اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ، منصور، سلیمان اور حسین بن عبدالرحمن سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے سالم بن ابی جعد سے سنا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، جس طرح ان سب کی روایت ہے جن کی حدیث ہم پہلے بیان کر چکے ہیں شعبہ سے نضر کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہا: اس میں حسین اور سلیمان نے اضافہ کیا، حسین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔) اور سلیمان نے کہا: (میں ہی قاسم ہوں، تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَال عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " .

سفیان بن عیینہ نے کہا: ہمیں (محمد) بن منکدر نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، اس شخص نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے کہا: ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے (تمہاری یہ خواہش پوری کر کے) تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے تو وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ لو۔“

وحدثني أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا .

روح بن قاسم نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے: (اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2133
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا تو اس کی قوم نے کہا، ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے تو وہ اپنے بیٹے کو اپنی پشت پر اٹھا کر چل پڑا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہا، اے اللہ کے رسول! میرا ایک بچہ پیدا ہوا ہے، سو میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5588]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو القاسم اس بنا پر تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو جو کچھ ملتا تھا، وہ علم و فضل ہو یا مال و دولت، آپ اس کو لوگوں میں بانٹ دیتے تھے اور دوسرے کسی میں یہ خوبی کمال درجہ میں موجود نہیں تھا، اس لیے اس کا نام قاسم رکھنا درست نہیں ہے، تاکہ اس کا باپ ابو القاسم نہ کہلا سکے تو اس سے اس کنیت کے رکھنے کی ایک دوسری وجہ نکلی، اس وجہ کی رو سے اب بھی یہ کنیت رکھنا درست معلوم نہیں ہوتا، لیکن آپ کے دور میں تو قاسم نام رکھنے کی صورت میں، ذہن آپ کی طرف منتقل ہو سکتا تھا اور اب اس کا احتمال باقی نہیں ہے، اس لیے یہ کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2133 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3114 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3114. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اپنے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا۔ شعبہ کی ایک روایت میں ہے کہ انصاری نے کہا: میں اسے اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے بچے کا نام محمد رکھنا چاہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام تو رکھ سکتے ہو لیکن تمھیں میری کنیت کے ساتھ کنیت رکھنے کی اجازت نہیں، کیونکہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے۔ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔‘‘ حصین کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’میں قاسم کی حیثیت سے مبعوث ہوا ہوں، میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘ عمرو نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر ؓسے بیان کیا کہ اس نے اس (بچے) کا نام قاسم رکھنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3114]
حدیث حاشیہ: ابو القاسم کنیت رکھنے کے بارے میں امام ماک ؒ کہتے ہیں کہ آپ کی حیات میں یہ فعل ناجائز تھا۔
بعضوں نے اسے ممانعت تنزیہی قرار دیا ہے۔
بعضوں نے کہا محمد یا احمد ناموں کے ساتھ ابوالقاسم کنیت رکھنی منع ہے۔
امام مالک ؒ کے قول کو ترجیح هے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3114 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3114 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3114. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اپنے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا۔ شعبہ کی ایک روایت میں ہے کہ انصاری نے کہا: میں اسے اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے بچے کا نام محمد رکھنا چاہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام تو رکھ سکتے ہو لیکن تمھیں میری کنیت کے ساتھ کنیت رکھنے کی اجازت نہیں، کیونکہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے۔ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔‘‘ حصین کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’میں قاسم کی حیثیت سے مبعوث ہوا ہوں، میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘ عمرو نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر ؓسے بیان کیا کہ اس نے اس (بچے) کا نام قاسم رکھنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3114]
حدیث حاشیہ:

حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺابوالقاسم اس لیے تھے کہ آپ لوگوں میں مال ومتاع تقسیم کرنے والے تھے اگرچہ آپ کے صاحبزادے کا نام بھی قاسم تھا لیکن آپ نے اس وجہ سے کنیت ذکر نہیں فرمائی۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاری کو بچے کا نام قاسم رکھنے سے منع کیا گیا،حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا نام قاسم نہیں بلکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی، اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی بچے کا نام قاسم رکھاجائے گا تو اس کا والد ابو القاسم ہوگا۔
اس بنا پر باپ کی کنیت رسول اللہ ﷺ کی کنیت جیسی ہوگی، ایسا التباس اور اشتباہ سے بچنے کے لیے تھا۔

یاد رہے کہ نام یا کنیت رکھنے کی ممانعت رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود تھی۔
اب کسی قسم کے اشتباہ یا التباس کا اندیشہ نہیں ہے، لہذا دونوں جائز ہیں۔

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف خمس کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ آپ اسے تقسیم کرنے والے ہیں، مالک نہیں ہیں۔
امام بخاری ؒنے اپنے مدعا پر اس طرح دلیل قائم کی ہے کہ آپ نے اپنانام قاسم رکھا ہے۔
دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3114 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3115 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3115. حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر انصار نے کہا: ہم تجھے ابو القاسم ہر گز نہیں کہیں گے اور نہ اس کنیت سے تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کریں گے۔ یہ سن کر وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول ﷺ! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے، اب انصار کہتے ہیں کہ ہم تجھے نہ تو ابو القاسم کہیں گے اور نہ ہی تیری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’انصار نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔ میرے نام پر نام تو رکھ لو مگر میری کنیت مت اختیار کرو کیونکہ قاسم تو میں ہی ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3115]
حدیث حاشیہ: امام بخاری ؒ نے امام سفیان ثوری ؒ کی روایت لاکراس امر کو قوت دی کہ انصاری نے اپنے لڑکے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا۔
تاکہ لوگ اسے ابوالقاسم کہیں مگر انصار نے اس کی مخالفت کی جس کی آنحضرت ﷺ نے تحسین فرمائی۔
اس میں راویوں نے شعبہ سے اختلاف کیا ہے۔
جیسے ابوالولید کی روایت اوپر گزری۔
انہوں نے یہ کہا ہے کہ انصاری نے محمد نام رکھنا چاہا تھا۔
قال الشیخ ابن الحجر بین البخارأ الاختلاف علی شعبة ھل أراد الأنصاري أن ابنه محمداً أو القاسم وأشار إلیٰ ترجیح أنه أراد أن یسمه القاسم بروایة سفیان وھو الثوري له عن الأعمش فسماہ القاسم ویترجح أیضاً من حیث المعنی لأنه لم یقع الإنکار من الأنصار علیه إلاحیث لزم من تسمیة ولدہ القاسم أن یصیر بکنی أباالقاسم انتھی (حاشیہ بخاری)
یعنی حضرت امام بخاری نے شعبہ پر اختلاف کو بیان کیا ہے جو اس بارے میں واقع ہو ا کہ انصاری قاسم رکھنا چاہتا تھا یا محمد اور اس ترجیح پر آپ نے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ قاسم نام رکھنا چاہتا تھا معنی کے لحاظ سے بھی اسی کو ترجیح حاصل ہے‘ انصار کا انکار اسی وجہ سے تھا۔
کہ وہ بچے کا نام قاسم رکھ کر خواابوالقاسم کہلانا چاہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3115 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3115 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3115. حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر انصار نے کہا: ہم تجھے ابو القاسم ہر گز نہیں کہیں گے اور نہ اس کنیت سے تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کریں گے۔ یہ سن کر وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول ﷺ! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے، اب انصار کہتے ہیں کہ ہم تجھے نہ تو ابو القاسم کہیں گے اور نہ ہی تیری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’انصار نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔ میرے نام پر نام تو رکھ لو مگر میری کنیت مت اختیار کرو کیونکہ قاسم تو میں ہی ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3115]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒنے مذکورہ روایت لا کر اس امر کو تقویت دی ہے کہ انصاری نے اپنے لڑکے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تاکہ لوگ اسے ابو القاسم کی کنیت سے یاد کریں مگر انصارنے اس کی مخالفت کی تو رسول اللھ ﷺ نے اس کردار کی تحسین فرمائی۔
بعض روایات میں ہے کہ انصاری نے اپنے بچے کا نام محمد رکھنا چاہا تھا، لیکن یہ روایت مرجوح ہے۔
بہرحال یہ ممانعت صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود تھی۔

اس امر میں اختلاف ہے کہ خمس میں رسول اللہ ﷺ اپنے حصے کے مالک تھے یا آپ صرف تقسیم کرنے والے تھے؟ امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے مالک نہیں بلکہ اس کی تقسیم آپ کے ذمے ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3115 سے ماخوذ ہے۔