صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا: باب: آگ کا عذاب جس کو سب سے کم ہو گا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن دوزخیوں میں سے سب سے کم عذاب اس آدمی کو ہو گا جس کے تلوؤں کے نیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے، ان سے اس کا دماغ کھولے گا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا ، مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنَ نَارٍ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ مَا يَرَى ، أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا ، وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا " .حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہو گا، جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے، وہ سمجھے گا مجھ سے سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا، حالانکہ اس کو سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ " . . . .»
”. . . ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سبیعی سے سنا، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ: 6561]
[127۔ البخاري فى: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار 6561، مسلم 213، ابوعوانة 98/1]
لغوی توضیح:
«أحْمَصِ قَدَمَیْه» قدموں کا وہ نچلا حصہ جو چلتے وقت زمین کو نہیں لگتا۔
«جَمْرَۃُ» انگارہ۔
«یَغْلِی» کھولے گا۔
فھم الحدیث: ایک روایت میں ہے کہ جہنم میں سب سے ہلکا عذاب یہ ہو گا کہ قدموں میں آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی اور اس سے دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا چولہے پر کھولتی ہے۔ [مسلم: كتاب الايمان 213]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ عذاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کو ہو گا۔ [مسلم: كتاب الايمان 212]
اس سے ابوطالب مراد ہیں۔
تشریح: ابوطالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ہی معزز چچا ہیں۔
ان کا نام عبدمناف بن عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کے فرزند ہیں۔
ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے مگر قوم کے تعصب کی بنا پر اسلام قبول نہیں کیا۔
ان کی وفات کے پانچ دن بعد حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا بھی انتقال ہوگیا۔
ان دونوں کی جدائی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد رنج ہوا مگر صبر و استقامت کا دامن آپ نے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غالب فرمایا۔
بعض نسخوں میں والقمقم کی جگہ بالقمقم ہے۔
قاضی عیاض نے کہا کہ صحیح لفظ والقمقم ہی ہے۔
یہ واؤ عاطفہ ہے لیکن اسماعیلی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں أوالقمقم ہے۔
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل جہنم میں ہلکا اور کم ترین عذاب ابو طالب کو ہو گا۔
اسے آگ کے دو جوتے پہنائیں جائیں گے جس سے اس کا دماغ اُبل رہا ہو گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 515 (212)
ایک روایت میں ہے، وہ خیال کرے گا کہ مجھے سب سے زیادہ عذاب ہو رہا ہے، حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہو گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 517 (213) (2)
جس طرح آگ ہانڈی کو جوش دیتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ انسان کے بدن کو سخت گرم کرے گی حتی کہ اس کے اثر سے دماغ کھول رہا ہو گا۔
أعاذنا اللہ منه
اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ دوزخ میں جانے والا فرد یہی سمجھے گا، کہ سب سےسخت عذاب مجھےہی ہورہاہے، اس لیے آپ ﷺ کی سفارش سے جو ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہوئی ہے، وہ اس کےحق میں اس اعتبار سے نافع نہیں ہوئی، اس لیے یہ تخفیف ﴿فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ کے منافی نہیں ہے، یا اس نفع سےمراد: دوزخ سے نکلنا ہے، کہ وہ دوزخ سےنہیں نکل سکیں گے۔
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہو گا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2604]
وضاحت:
1؎:
اغلب یہی ہے کہ اس سے ابوطالب مراد ہیں کیوں کہ مسلم اور دیگر لوگوں کی دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے۔