صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب النَّهْيِ عَنِ التَّزْوِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ وَالتَّشَبُّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَ: باب: فریب کا لباس پہننے کی اور جو نہ ہو اس کا ذکر کرنے کہنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قالت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! (اگر) میں یہ کہوں: مجھے (یہ سب) میرے خاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (کھانا) نہیں ملا، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! کیا میں، جو چیز خاوند نے نہیں دی، وہ دینے کا اظہار کر سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چیز میسر نہیں، اس سے سیری کا اظہار کرنے والا، وہ جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5583]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ: بھوکا، سیر ہونے والے کی مشابہت اختیار کرے، جوخوبی موجود نہیں ہے، اس سے متصف ہونے کا اظہار کرے، جھوٹی زیبائش کے لیے، کنگلا بہت کچھ ہونے کا دعوی کرے، عورت اپنی سوکن کو جلانے کے لیے جو کچھ خاوند نے نہیں دیا ہے، اس کے دینے کا اظہار کرے۔
(2)
كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ: (1)
نیک اور پارسا لوگوں کا لباس پہن کر اپنے زہد اور ورع کا اظہار کرنا۔
(2)
جھوٹ بولنے کو شعار بنانا جس طرح پسندیدہ اخلاق کو ظاھر الثوب کہہ دیا جاتا ہے۔
(3)
جھوٹی گواہی دینے کے لیے بن ٹھن کرجانا، تاکہ اسے متاثر ہوکر اس کی گواہی قبول کرلی جائے۔
(4)
دوہری آستین بنانا، اصل مقصد سرتاپا جھوٹا ہونا ہے کہ ایسا آدمی مجسم جھوٹ ہے۔
(1)
الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ: بھوکا، سیر ہونے والے کی مشابہت اختیار کرے، جوخوبی موجود نہیں ہے، اس سے متصف ہونے کا اظہار کرے، جھوٹی زیبائش کے لیے، کنگلا بہت کچھ ہونے کا دعوی کرے، عورت اپنی سوکن کو جلانے کے لیے جو کچھ خاوند نے نہیں دیا ہے، اس کے دینے کا اظہار کرے۔
(2)
كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ: (1)
نیک اور پارسا لوگوں کا لباس پہن کر اپنے زہد اور ورع کا اظہار کرنا۔
(2)
جھوٹ بولنے کو شعار بنانا جس طرح پسندیدہ اخلاق کو ظاھر الثوب کہہ دیا جاتا ہے۔
(3)
جھوٹی گواہی دینے کے لیے بن ٹھن کرجانا، تاکہ اسے متاثر ہوکر اس کی گواہی قبول کرلی جائے۔
(4)
دوہری آستین بنانا، اصل مقصد سرتاپا جھوٹا ہونا ہے کہ ایسا آدمی مجسم جھوٹ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5583 سے ماخوذ ہے۔