صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ: باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ : " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے حسن بن مسلم سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا ، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ " .زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی، کہا: مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تو اس کے بال جھڑ گئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتا ہے، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ”جوڑنے والی واصلات کی جگہ موصِلات ہے، پر لعنت کی گئی ہے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو خوش رکھنے کے لیے غیر شرعی خوبصورتی کرنا جائز نہیں۔
آج کل کی روشن خیال خواتین مصنوعی خوبصورتی کے لیے بہت سے غیر شرعی کام کرتی ہیں جو مردوں کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرنا ہے۔
یہ اس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کام فاجر اور بے حیا عورتیں کرتی ہیں، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے خلاف حکم دے تو عورت کو چاہیے کہ وہ نہ مانے، ایسے حالات میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ یہ فعل خاوند کی نافرمانی ہی کے زمرے میں آئے گا۔
والله المستعان