صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ: باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ ؟ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اال تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی، اے اللہ کے رسولﷺ! میری ایک بچی دلہن ہے، اسے چیچک نکلی، جس سے اس کے بال جھڑ گئے تو کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کی ہے۔‘‘
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا .عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَنَهَاهَا " .منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ واصلہ سے مراد وہ عورت ہے جو دوسری عورتوں کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگائے اور مستوصلہ وہ عورت ہے جس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگائے جائیں۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4170) (2)
اگر کسی عورت کے بال بیماری کی وجہ سے جھڑ گئے ہوں تو اسے بھی پیوندکاری کرنے کی اجازت نہیں، خواہ اس کا خاوند اس پرزور تقاضا ہی کیوں نہ کرے۔
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ دھاگوں سے بنی ہوئی موباف، یعنی پراندی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4171)
مقام افسوس ہے کہ آج کل مصنوعی داڑھیاں بھی بازار سے دستیاب ہیں اور داڑھی منڈوانے والے خطیب حضرات بوقت ’’ضرورت‘‘ انہیں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ مصر اور ترکی کی بعض مساجد میں ایسا ہوتا ہے۔
العیاذ باللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5097]
(2) ”لعنت فرمائی“ کسی کا نام لے کراس پر لعنت کرنا جائز نہیں مگر کسی وصف کا ذکر کرکے لعنت کی جاسکتی ہے، جیسے چور پر لعنت۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے، اسے ایک بیماری ہو گئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جوڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5252]
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری بیٹی دلہن ہے، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1988]
فوائد و مسائل:
(1)
’’میری بیٹی دلھن ہے۔‘‘
اس کایہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دلہن بننے والی ہے اور عنقریب اس کی شادی ہونے والی ہے۔
اور یہ مطلب بھی ہو سکتاہےکہ ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اور خطرہ ہے کہ خاوند کا دل اس سے بیزار ہو جائے۔
(2)
رسول اللہ ﷺنے اسےاس عذر کے باوجود بال ملانے کی اجازت نہ دی، حالانکہ خاوند کو خوش کرنے کے لیے زیب و زینت شرعاً مطلوب ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کراہت کی نہیں بلکہ یہ عمل حرام ہے۔
لعنت سے بھی حرمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ صرف مکروہ کام پرلعنت نہیں کی جاتی۔
اس حدیث میں وگ (بناوٹی بال) لگوانے سے منع کیا گیا ہے۔ بعض لوگ اس شخص یا اس عورت کے لیے گنجائش نکالتے ہیں جس کا مکمل سر گنجا ہو جائے، اور دلیل ازالہ عیب بتاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ اگر کسی کے سر کے مکمل بال ختم ہو جائیں تو وہ ازالہ عیب کے لیے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر وگ نہیں لگا سکتا: ① احادیث میں با صراحت بالوں کے ساتھ بال جوڑ نے (یعنی وگ) سے منع کیا گیا ہے۔
② قطعی نص کی موجودگی میں قیاس سے مسئلہ اخذ کر نامحل نظر ہے۔ جب نص موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مصنوعی بال (وگ) لگانے سے منع کر دیا تھا، حالانکہ اس کے سر کے تمام بال گر گئے تھے، اب اس کی موجودگی میں اس حدیث پر قیاس کرنا جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو سونے کی ناک لگانے کی اجازت دی تھی، جب اس کی ناک جنگ میں کٹ گئی تھی محل نظر ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر آدمی کی ناک کٹ جائے تو نئی بناوٹی ناک لگوانا جائز ہے، کیونکہ اس کا جواز مل رہا ہے، اور اس سے منع نہیں کیا گیا، لیکن مصنوعی بال (وگ) لگوانے کی ممانعت موجود ہے۔ اب وہ دلیل مطلوب ہے جس میں مصنوعی بال لگوانے کی اجازت ہو۔
③ فیشن کی شرط لگانا بھی محل نظر ہے، کیونکہ اس کے لیے بھی نص صریح چاہیے۔ اگر کوئی کہے کہ وگ فیشن کی وجہ سے لگانا حرام ہے اور فیشن کی غرض سے نہ ہو تو وگ کا استعمال درست ہے، یہ فرق درست نہیں ہے، کیا یہ فرق قرآن و حدیث میں ہے؟ «اڈ ليس فليس»
④ جب گنجے پن کوختم کرنے کا علاج (پیوند کاری) موجود ہے جس کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے تو اس علاج کی موجودگی میں حرام اور ممنوع فعل (وگ لگانا) کو مباح قرار دینا درست نہیں ہے۔ (بالوں کا معاملہ از راقم الحروف بص: 45۔ 51)