صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ: باب: راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور حقوق کی ادائیگی کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔“ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا (جہاں مجلس ہے) حق ادا کرو۔“ لوگوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہیں جھکا کر رکھنا (چلنے والوں کے لیے) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔“
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عبدالعزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
افش السلام، احسن فی الكلام، وشمت عاطسا، سلاما رد احسانا فی الحمل عاون، ومظلوما أعِن واغِث، لهفان، اِهدِ سبيلا، واهد جيرانابالعرف مُر، وانه عن نكر وكفِ اذی، وغضِ طرفا، واكثر ذكر مولانا سلام کو عام کر، اچھی گفتگو کر، چھینکنے والے کو دعا دے اور سلام کا بہتر طور پر جواب دے۔
بوجھ اٹھانے میں مدد کر، مظلوم کا تعاون کر، محتاج و ضرورت مند کی فریاد رسی کر، راستہ بتا اور ساتھیوں کو تحفہ دےنیکی کی تلقین کر، برائی سے روک، تکلیف دینے سے باز رہ، نظر نیچی رکھ اور اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کر امام نووی، تکلیف دینے سے باز رہے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں، غیبت، بدظنی، گزرنے والوں میں سے کسی کو حقیر سمجھنا، راستہ کو تنگ کرنا، اس میں داخل ہے، اس طرح اگر بیٹھنے والوں سے گزرنے والے مرعوب ہوتے ہیں، یا ان سے خوف زدہ ہوں اور اپنے کام کاج کے لیے خوف کی وجہ سے گزر نہ سکتے ہوں، حالانکہ گزرگاہ یہی ہے تو یہ بھی تکلیف دہ بات ہے۔
(1)
انسان کی یہ فطرت ہے کہ جب وہ کھانے پینے کی پسندیدہ چیز دیکھتا ہے تو اسے کھانے کی اس میں خواہش پیدا ہوتی ہے، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی غیر محرم عورت کو دیکھنے سے شہوانی تقاضا پیدا ہو جاتا ہے یا کم از کم انسان اس وقت بے چینی میں ضرور مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے حالات میں بندۂ مسلم کو نگاہ بچا کر رکھنے کا حکم ہے۔
قرآن مجید میں عورتوں اور مردوں کو الگ الگ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اگر کسی کی اچانک نظر پڑ جائے تو نگاہیں دوسری جانب پھیر لینے کا حکم ہے، چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ادھر سے نگاہیں دوسری طرف پھیر لوں۔
'' (مسند أحمد: 4/358)
کسی کے گھر میں تاک جھانک کرنا اتنا شدید جرم ہے کہ اگر صاحب خانہ اس جرم کی پاداش میں کسی بھی چیز سے نظر باز کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
(مسند أحمد: 181/5) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دیگر روایات کے پیش نظر چودہ امور کی نشاندہی کی ہے جو راستے کے حقوق سے متعلق ہیں، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ نگاہیں نیچی رکھنا۔
٭ دوسروں کو تکلیف دینے سے باز رہنا۔
٭ سلام کا جواب دینا۔
٭ بھلے کاموں کا حکم دینا۔
٭ برے کاموں سے روکنا۔
٭ پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا۔
٭ بھٹکے مسافر کو راستہ بتانا۔
٭ چھینک کا جواب دینا۔
٭ مظلوم کی مدد کرنا۔
٭ سلام کو عام کرنا۔
٭ بوجھ اٹھانے والے کا ہاتھ بٹانا۔
٭ اچھی گفتگو کرنا۔
٭ بکثرت ذکر الٰہی میں مصروف رہنا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان امور کو تین عربی ابیات میں جمع کیا ہے۔
(فتح الباري: 16/11)
(1)
ایک روایت کے مطابق نابینے شخص کو راستے پر لگانا، چھینک کا جواب دینا اور کمزور ناتواں کی مدد کرنا بھی راستے کے حقوق میں شامل ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4817،4816)
معلوم ہوا کہ گھروں سے باہر چوپال میں بیٹھنا حرام نہیں، ممانعت صرف اس لیے ہے کہ عوام کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔
(2)
اس سے برائی کی راہ کا سدِباب مقصود ہے، اس بنا پر لوگوں کو بیٹھنے کے لیے ایسی مجالس اختیار کرنی چاہئیں جہاں مکروہ اور ناپسندیدہ امور نہ دیکھیں اور ایسی باتیں نہ سنیں جن کا سننا شرعاً ممنوع ہے۔
دوکانوں کے سامنے ٹی وی دیکھنے، گانے سنے کے لیے بیٹھنا حرام ہے۔
شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان دوکانوں سے فائدہ لیا جا سکتا ہے لیکن اگر عوام کو نقصان ہو یا غیر شرعی امور سے واسطہ پڑتا ہو تو وہاں بیٹھنا جائز نہیں۔
واللہ أعلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ راستوں (اور گلی کوچوں) میں بیٹھنے سے بچو۔ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، راستوں پر بیٹھے بغیر ہمارا گزارہ نہیں کیونکہ ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ پس اگر تم نہیں مانتے تو راستہ کا حق ادا کرو۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا ’’ آنکھوں کو نیچے رکھنا۔ اذیت رسانی نہ کرنا اور سلام کا جواب دینا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا۔ ‘‘ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1316»
«أخرجه البخاري، الاستئذان، باب قول الله تعالي: "يأيها الذين آمنوا لا تدخلوا..."، حديث:6229، ومسلم، الباس والزينة، باب النهي عن الجلوس في الطرقات...،حديث:2121.»
تشریح: 1. اس حدیث سے راستوں میں‘ جہاں سے لوگ گزرتے ہوں‘ بیٹھنے اور قصہ گوئی کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
2.گلی کوچوں میں بیٹھنا اور راہ چلنے والوں کے لیے راستہ تنگ کرنا کون سی شرافت ہے۔
راستوں پر خواتین کا آنا جانا بھی رہتا ہے۔
لامحالہ ان کے لیے مشکل پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ٹریفک کے مسائل ہیں۔
اگر راستے پر بیٹھنا مجبوری ہو تو پھر اس کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔