حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ " ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ .

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم ابوعبداللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگانے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا، انہوں نے (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: اللہ کی قسم! میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کرتا۔ پھر انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین (کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2118
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کا چہرہ داغا گیا تھا تو آپﷺ نے اس کو برا فعل قرار دیا، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا، سو اللہ کی قسم! میں اسے داغ نہیں دوں گا، مگر چہرے سے انتہائی دور جگہ میں تو انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین کو داغا گیا اور وہ سب سے پہلے فرد ہیں جنہوں نے سرین کو داغا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5553]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
جاعرتان: دونوں چوتڑوں کا ابھرا ہواحصہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5553 سے ماخوذ ہے۔