صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ: باب: سفر میں گھنٹی اور کتا رکھنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 2114
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’گھنٹی شیطانی آواز ہے، یا شیطان کی بانسری ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5548]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مزامير: مزمور کی جمع ہے، گیت، بانسری۔
مزامير: مزمور کی جمع ہے، گیت، بانسری۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2114 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2556 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: ” وہ شیطان کی بانسری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2556]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: ” وہ شیطان کی بانسری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2556]
فوائد ومسائل:
1۔
جانوروں کے گلے میں گھنٹیاں اور گھنگرو قسم کی چیزیں باندھنا جائز نہیں۔
2۔
موسیقی کے دوسرے آلات کی حرمت بھی احادیث سے ثابت ہے۔
3۔
ایسے ہی کتا رکھنا اگر محض اظہار ہیبت اور زینت کےلئے ہوتو ناجائز ہے۔
حفاظت کی نیت سے ہو تو جائز ہے۔
1۔
جانوروں کے گلے میں گھنٹیاں اور گھنگرو قسم کی چیزیں باندھنا جائز نہیں۔
2۔
موسیقی کے دوسرے آلات کی حرمت بھی احادیث سے ثابت ہے۔
3۔
ایسے ہی کتا رکھنا اگر محض اظہار ہیبت اور زینت کےلئے ہوتو ناجائز ہے۔
حفاظت کی نیت سے ہو تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2556 سے ماخوذ ہے۔