صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ ، فَقَالَ : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً " .ابو زرعہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا، انہوں نے وہاں تصویریں دیکھیں تو کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے، جو میری تخلیق جیسی تخلیق کرنے لگتا ہے؟ وہ ایک ذرہ پیدا کریں، یا دانہ ہی پیدا کریں یا جو پیدا کریں۔‘‘
وحدثينيه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَى بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ ، قَالَ : فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً .جریر نے عمارہ سے، انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں ایک گھر میں گئے جو سعید (ابن عاص) رضی اللہ عنہ یا مروان (ابن حکم) کے لیے بنایا جا رہا تھا، وہاں انہوں نے ایک مصور کو گھر میں تصویر بناتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اسی کے مانند روایت کی اور (جریر نے) (یا ایک جو تو بنائیں) (کے الفاظ) بیان نہیں کیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
جب نباتات بھی نہیں بنا سکتے تو بھلا حیوان بنائیں گے۔
1۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ حیوان بنانا تو بہت مشکل ہے نباتات کی قسم سے کوئی دانہ یا جَو پیدا کر دیں۔
جب وہ بناتات نہیں بنا سکتے تو حیوانات کیا بنائیں گے۔
اس سے مقصد انھیں کبھی تو حیوان پیدا کرنے کے ساتھ عاجز کرنا ہے کہ وہ چیونٹی پیدا کریں اور کبھی جامد چیز کی پیدائش سے انھیں عاجز کرنا ہے کہ وہ ایک جو ہی پیدا کر کے دیکھائیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ ان کی طرف خلق کی نسبت کرنا انھیں عاجز کرنے کے لیے ہے حالانکہ وہ تو خود مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں پیدا کرنے والا ہے بلکہ ان کے افعال و کردار کا بھی وہی خالق ہے چونکہ وہ اپنے افعال اپنے اختیار سے بجا لاتے ہیں اس بنا پر وہ جزا و سزا کے حق دار ہیں۔
واللہ أعلم۔
یعنی جنت میں اہل جنت کو سونے کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ کا نام عبدالرحمن بن صخر ہے۔
غزوئہ خیبر کے سال اسلام لائے، خدمت نبوی میں ہر وقت حاضر رہتے۔
مدینہ میں سنہ 59ھ بعمر 75 سال وفات پائی۔
5274 احادیث بنوی کے حافظ تھے۔
(1)
حدیث کے عموم میں ہر تصویر داخل ہے، خواہ مجسم ہو یا غیر مجسم۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جس تصویر کو دیکھ کر یہ حدیث بیان کی وہ غیر مجسم تصویر تھی جو مصور، چھت پر بنا رہا تھا۔
ہمارے ہاں کچھ لوگ کپڑے کی تصویر کو جائز خیال کرتے ہیں اور ان تصویروں کو ناجائز کہتے ہیں جن کا جسم ٹھوس ہو، اس حدیث سے ان کی تردید ہوتی ہے کیونکہ چھت پر بنی تصویروں کا کوئی جسم نہ تھا۔
(2)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے موقع پر حکم دیا تھا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود سب تصویروں کو مٹا دیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک انہیں ختم نہیں کیا گیا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4156)
تصویر کو دو صورتوں میں رکھا جا سکتا ہے: ایک یہ کہ اس کا سر کاٹ کر اسے درخت کی طرح بنا دیا جائے دوسری صورت یہ ہے کہ اسے پاؤں تلے روندا جائے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4158)
تصویروں والا کپڑا بھی اس انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ اس میں تصویروں کی بے قدری کا اظہار ہو، مثلاً: بستر پر بچھانے والی چادر یا بیٹھنے کے لیے کرسیوں کی گدیاں وغیرہ بنا لی جائیں۔
واللہ أعلم