حدیث نمبر: 2105
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال : أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " ، قَالَ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً ، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ : " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ ؟ " ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکرمندی کی حالت میں صبح کی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آج دن (کے آغاز) سے آپ کی حالت معمول کے خلاف دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ کہا: تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا جو ہمارے (ایک بستر کے نیچے بن جانے والے) ایک خیمہ (نما حصے) میں تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آوارہ یا بے کار) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی (جو رکھوالی نہیں کر سکتا) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے۔ (ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2105
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کے وقت غمزدہ تھے، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں، میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں صبح سے آپ کی ہئیت اوپری انوکھی دیکھ رہی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جبریل علیہ السلام نے آج رات میرے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا تھا، لیکن ملا نہیں ہے، ہاں اللہ کی قسم! اس نے میرے ساتھ کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔‘‘ تو دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5513]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کی رنجیدہ حالت دیکھ کر پریشان ہو گئیں اور آپ سے رنجیدگی کا سبب پوچھا، تاکہ اگر ان کے لیے اس کو مدد کرنا ممکن ہو، اس کو دور کر سکیں، یا آپ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کریں، انسان کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے، حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اگر ایک ہی ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ آپ نے شام کے وقت کتا دیکھا اور اس کو نکالنے کا حکم دیا، جس کے بعد جبریل علیہ السلام آ گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2105 سے ماخوذ ہے۔