صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعْلِ فَي الْيُمْنٰي أَوَّلْا ، وَّالْخَلْعِ مِنَ الْيُسْرٰي أَوَّلٓا ، وَّكَرَاهَةِ الْمَشْيِ فَي نَعْلٍ وَّاحِدَةٍ باب: پہلے داہنا جوتا پہننے اور پہلے بایاں اتارے اور صرف ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قال : خَرَجَ إِلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّكُمْ تَحَدَّثُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَهْتَدُوا وَأَضِلَّ أَلَا ، وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا " .حضرت ابو زرین بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہماری طرف آئے، پھر اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر کہا، خبردار تم آپس میں باتیں کرتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولتا ہوں، تاکہ تم راہ یاب ہو جاؤ اور میں راہ راست سے بھٹک جاؤں، سنو! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ”جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے جوتے میں، اس کو ٹھیک کرانے تک نہ چلے۔‘‘
وحدثينيه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى .علی بن مسہر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابورزین اور ابوصالح سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
دوسرے اس میں پیر اونچے نیچے ہو کر موچ آجانے کا بھی خطرہ ہے۔
کانٹا لگ جانے کا خطرہ الگ ہے۔
بہر حال فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم حکمت سے خالی نہیں ہے۔
فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمة۔
(1)
جوتا اتارتے وقت بائیں جانب سے ابتدا اس لیے کی جاتی ہے کہ جوتا پہننا ایک اچھا کام ہے کیونکہ اس سے بدن کی حفاظت ہوتی ہے، جب دایاں پاؤں بائیں سے افضل اور قابل احترام ہے تو پہنتے وقت دائیں پاؤں سے آغاز کیا جاتا ہے اور اتارتے وقت اسے بعد میں کیا جاتا ہے تاکہ دائیں کی کرامت و احترام زیادہ ہو اور اس حفاظت میں اس کا حصہ اکثر ہو۔
(2)
بہرحال جو انسان جوتا پہننے میں بائیں پاؤں سے آغاز کرتا ہے اس نے مخالفت سنت کی وجہ سے بے ادبی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن جوتا پہننا حرام نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 384/10)
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: عراق والو! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5372]
(2) ”ٹھیک کرے“ معلوم ہوا مومن کو اپنے وقار کا لحاظ رکھنا چاہے، لباس میں بھی اور چال ڈھال میں بھی۔ ایسا بھی سادہ نہ ہو کہ وقار کی پرواہی نہ کرے اور لوگوں کے لیے اضحو کہ اور طنز کا سامان بنا رہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3617]
فوائد ومسائل: (1)
ایک جوتا یا موزہ پہن کر چلنے میں دقت ہوتی ہے اور لڑکھڑانے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ چال میں توازن نہیں رہتا علاوہ ازیں شرف و وقار کے بھی منافی ہے۔
اگرکسی وجہ سے ایک جوتا اتارنا پڑے تو بہتر ہے کہ دونوں جوتے اتاردئیے جائیں۔
ننگے پاؤں چلنا شرعاً منع نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ یا پٹی ٹوٹ جائے تو وہ اس حالت میں نہ چلے کہ ایک پاؤں میں جوتا اور دوسرا پاؤں ننگا ہو، بلکہ وہ دونوں پاؤں سے جوتے اتار دے یا دونوں پاؤں ننگے رکھ کر چلے۔“ [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 38]
امام خطابی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک جوتا پہن کر چلنے سے اس لیے منع فرمایا کہ اس طرح چلنے سے بندے کو مشقت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ساتھ ساتھ گرنے اور چوٹ کھانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھوں میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید اس کا ایک پاؤں بڑا اور دوسرا چھوٹا ہے۔
ابن العربی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ایک جوتے میں چلنا شیطانی چال ہے۔
امام بیہقی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ایسی حالت میں چلنا کہ ایک پاؤں جوتے سے مستور اور دوسرا برہنہ، یہ طریقہ باعثِ بدنامی شرعاً ممنوع ہے، چاہے وہ لباس کے حوالے سے ہو یا کسی اور شہرت کے کام کے متعلق۔ اس کے بعد امام بیہقی رحمه الله علیه ایک زریں اصول بیان فرماتے ہیں: «فَكُلّ شيئٍ حَيَّرَ صَاحِبُهُ شُهْرَة فَحقُّهُ أَنْ يَّجْتَنِبَ»
"ہر وہ چیز جو انسان کی شہرت کا باعث ہے اس سے اجتناب لازم ہے۔ " (دیکھئے! [عمدة القاري: 18/ 52 - فتح الباري: 10/ 309، 310]
امام بغوی فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی صاحب بیٹھنے لگے تو جوتے اتار کر اپنی ایک جانب رکھ دے۔ دیکھیے: [شرح السنة: 12/ 78]
ایک جوتا پہن کر چلنے سے قطعی گریز کرنا چاہیے، تاکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پوری پوری اتباع ہو سکے۔
«. . . 359- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يمشين أحدكم فى نعل واحدة، لينعلهما جميعا أو ليحفهما جميعا.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایک جوتے میں نہ چلے البتہ دونوں پاؤں میں پہن لے یا پھر دونوں پاؤں ننگے رکھے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 423]
[وأخرجه البخاري 5856، ومسلم 68/2097، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دین اسلام میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے چاہے بڑا مسئلہ ہو یا چھوٹا اور اس میں لوگوں کے لئے خیر خواہی ہے۔
➋ کعب الاحبار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے جوتے اُتار دیئے تو انہوں نے کہا: تو نے جوتے کیون اُتارے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ تو نے اس حکم کی تعمیل کی ہو: «فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» پس تم جوتے اتار دو، تم طوی کی مقدس وادی میں ہو۔ [طٰهٰ: 12]
پھر کعب نے اس آدمی سے کہا: کیا تجھے پتا بھی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے کیسے تھے؟۔۔۔۔ وہ مُردہ گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔ [الموطأ 2/916 ح1768، وسنده صحيح]
➌ اگر کسی شخص کا ایک ہی پاؤں ہو تو حالت اضطراری کی وجہ سے وہ اس حدیث کے حکم سے مستثنیٰ ہے اور اس کے لئے ایک جوتے میں چلنا جائز ہے۔
➍ حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ آپ جس چیز کے مالک ہیں اگر اس کے استعمال سے منع کیا گیا ہے تو یہ ممانعت تادیبی ہے اِلا یہ کہ کوئی دوسری دلیل اسے حرام کردے۔ دیکھئے: [التمهيد 18/177، ملخصاً]
➎ اگر پاؤں کو تکلیف یا کانٹے چبھنے کا اندیشہ نہ ہو تو ننگے پاؤں چلنا جائز ہے۔
➏ دین اسلام دین فطرت ہے۔ (نیز دیکھئے: [الموطأ ح360]
«وعنه رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا يمش احدكم فى نعل واحدة ولينعلهما جميعا او ليخلعهما جميعا. متفق عليه»
”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں پاؤں کو پہنائے یا دونوں جوتے اتار دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1248]
[بخاري: 5856]، [مسلم: الباس 5497]، [بلوغ المرام: 1248]، [تحفة الاشراف 187/10]
مفردات:
«لينعلهما» نووی نے ضبط کیا ہے کہ یہ یاء کے ضمہ کے ساتھ «انعل» «ينعل» (إفعال) سے ہے جس کا معنی جوتا پہنانا ہے۔ «هما» سے مراد دونوں پاؤں ہیں ان کا ذکر اگرچہ پہلے نہیں گزرا مگر ضمیر اس لئے لائی گئی ہے کہ جوتا پہنانے سے خود بخود سمجھ آ رہی ہے کہ جوتا کون سے عضو میں پہنا جاتا ہے۔ اگر «لينعلهما» ”ع“ کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ «علم يعلم» سے ہو گا۔ قاموس میں ہے «نعل كفرح وانتعل وتنعل» اس نے جوتا پہنا۔ اس صورت میں «هما» سے مراد ”دونوں جوتے“ ہوں گے یعنی دونوں جوتے پہن لے۔ «ليخلعهما» «هما» سے مراد ”جوتے“ ہیں۔ یعنی دونوں جوتے اتار دے۔ بخاری کی ایک روایت میں «اؤ ليحفهما» ہے یا دونوں کو ننگا رکھے اس وقت «هما» سے مراد دونوں پاؤں ہوں گے۔
فوائد:
➊ جوتے کا مقصود پاؤں کو تکلیف دہ چیزوں مثلاً کانٹے وغیرہ سے بچانا ہوتا ہے۔ جب صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو تو دوسرے پاؤں کو بچانے کے لئے خاص جدوجہد کرنی پڑتی ہے جس سے اس کی معمول کی چال برقرار نہیں رہتی نہ ہی جسم کا توازن درست رہتا ہے۔ اور پاؤں میں موچ آنے کا خطرہ ہوتا ہے اس کوشش میں آدمی گر بھی سکتا ہے (فتح) بظاہر یہ حکمتیں معلوم ہوتی ہیں مگر ہر حکم کی اصل علت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک جوتا پہن کر چلنا حرام ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل یہی ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ لفظ آئے ہیں کہ ”جب تم سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے (جو انگوٹھے میں ہوتا ہے اور اس کے ٹوٹنے سے آدمی جوتے میں چل نہیں سکتا) تو ایک جوتے میں نہ چلے۔“جب چلتے چلتے ٹوٹ جانے کی صورت میں بھی ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت نہیں تو بغیر ضرورت کس طرح اجازت ہو سکتی ہے۔
➌ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بہتر ہے کہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے لیکن اگر کبھی ایک جو پہن کر چلے تو حرام نہیں کیونکہ ترمذی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: «ربما مشي النبى صلى الله عليه وسلم فى نعل واحدة» ”کئی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوتا پہن کر چلتے پھرتے تھے۔“ [ترمذي، اللباس]
مگر یہ روایت ضعیف ہے اس میں لیث بن ابی سلیم ہیں تقریب میں ہے «صدوق اختلط ولم يتميز حديثه فترك» علاوہ ازیں یہ متفق علیہ حدیث کے بھی خلاف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل ہے۔ جیسا کہ ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ مذکور ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ [فتح]
کسی صحابی کا عمل دلیل نہیں ہوتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے یہ عذر سمجھا جائے گا کہ انہیں حدیث نہیں پہنچی یا کسی تاویل کی وجہ سے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
➍ جابر رضی اللہ عنہ نے ایک جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اکثر جوتے پہن کر رکھا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتا پہنے ہوئے ہوتا ہے وہ سوار ہوتا ہے۔ [مسلم، لباس ب 66]
➎ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں چلا کریں۔ [ابوداود الترجل ب: 1] اور دیکھئے [صحيح ابوداود]
مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں سخت کوشی باقی رہے۔ ایسا نہ ہو کہ جوتا ٹوٹ جانے کی صورت میں یا موجود نہ ہونے کی صورت میں چل ہی نہ سکیں۔ جب کسی شخص کی عادت ہو جائے کہ وہ کبھی کبھی ننگے پاؤں چلتا پھرتا رہے تو ایک جوتا ٹوٹنے کی صورت میں ننگے پاؤں چلنے میں نہ اسے لوگوں سے حیاء مانع ہو گی نہ نازک بدنی اسے ننگے پاؤں چلنے سے روکے گی۔
➏ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اپنا تسمہ درست کر لے اور ایک موزہ پہن کر نہ چلے۔ [مسلم، لباس ب 20]
اس سے معلوم ہوا کہ ایک پاؤں میں موزہ یا جراب پہن کر چلنا پھرنا بھی جائز نہیں۔
بعض لوگ اس کے ساتھ یہ بڑھاتے ہیں کہ قمیص کی ایک آستین اتار کر نہ چلے وغیرہ مگر یہ اضافے اپنی طرف سے ہیں، ان سے کوئی چیز دین نہیں بن سکتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی بھی ایک جوتا پہن کر نہ چلے پھرے یا تو دونوں اکٹھے پہنے یا پھر دونوں اتار دے۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1248»
«أخرجه البخاري، اللباس، باب لا يمشي في نعل واحد، حديث:5855، ومسلم، اللباس، باب استحباب لبس النعل في اليمين أولاً...، حديث:2097.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہو اکہ ایک جوتا پہن کر نہیں چلنا چاہیے۔
دونوں پہنے جائیں یا دونوں اتار دیے جائیں۔
بعض علماء نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ جوتے پہننے سے مقصود دونوں پاؤں کو تکلیف دہ چیزوں‘ مثلاً: کانٹے وغیرہ سے بچانا ہوتا ہے جب کہ ایک پاؤں ننگا ہوتو یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
اور بعض نے کہا ہے کہ یہ شیطان کے چلنے کا طریقہ ہے۔
(سبل السلام) 2. سیدھی سی بات ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، نیز ایک پاؤں میں جوتا اور دوسرا ننگا لیے پھرنا شائستگی اور تہذیب کے بھی منافی ہے۔