حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں جو ہم نے کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا ”جوتے خوب استعمال کرو، بکثرت پہنو، کیونکہ انسان جب تک جوتا پہنے گا، سوار ہوتا ہے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2096
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4133

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں جو ہم نے کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا ’’جوتے خوب استعمال کرو، بکثرت پہنو، کیونکہ انسان جب تک جوتا پہنے گا، سوار ہوتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5494]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جو شخص جوتا پہنتا ہے، وہ مشقت اور تکان کے کم ہونے اور پاؤں کے محفوظ ہونے میں سوار کے مشابہہ ہے، کیونکہ اس کے پاؤں، راستہ میں کانٹے، پتھر وغیرہ، تکلیف دہ اشیاء سے محفوظ رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5494 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4133 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جوتا پہننے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: " جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے (یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے)۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4133]
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں کہ سفر میں بالخصوص جوتا عمدہ نمایاں ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4133 سے ماخوذ ہے۔