صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کا بیان اس کا نگینہ حبشی تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قال : " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا " .عبداللہ بن وہب مصری نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبش کا تھا۔
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قالا : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي َهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ثم الزرقي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ " .طلحہ بن یحییٰ انصاری نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی، اس میں حبش کا نگینہ تھا، آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے۔
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي .سلیمان بن بلال نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ طلحہ بن یحییٰ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
باب کا مطلب اس سے یوں نکلا کہ آنحضرت ﷺ کی مہر حضرت ابوبکرص استعمال کرتے رہے، ان کے بعد یہ مہر حضرت عمرص کے پاس رہی، ان کے بعد حضرت عثمان ؓکے پاس، پھر ان کے ہاتھ سے اریس نامی کنویں میں گرگئی ہر چندڈھونڈا مگر نہ ملی۔
سچ ہے ﴿کُل مَن عَليھَا فَان﴾ (رحمن: 26)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کا ذکر ہے جسے سرکاری مہر کے طور پر استعمال کیا جاتاتھا۔
رسول اللہ ﷺ نے جب اہل روم کو دعوتی خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو عرض کی گئی کہ وہ مہر کے بغیر خطوط نہیں پڑھتے توآپ نے اس وقت یہ انگوٹھی بنوائی۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5875)
اسے آپ ہاتھ میں پہنتے۔
آپ کے بعد اسے حضرت ابوبکر ؓنے استعمال کیا۔
ان کے بعد حضرت عمر ؓکے ہاتھ میں رہی۔
ان کے بعد حضرت عثمان ؓکے پاس آئی، چنانچہ حضرت عثمان ؓ ایک دن اریس نامی کنویں پر بیٹھے انگوٹھی سے کھیل رہے تھے کہ اچانک وہ کنویں میں گرگئی۔
ا س کاپانی نکال کر تین دن تک اسے تلاش کیا گیا لیکن وہ نہ مل سکی۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5879)
اللہ ہی بہتر جانتاہے کہ اس میں کیا حکمت تھی۔
بہرحال انگوٹھی آپ کا وہ ترہ تھا جسے آپ کے بعد خلفائے راشدین ؓنے استعمال کیا۔
حدیث اور باب میں یہی وجہ مطابقت ہے۔
(1)
انگوٹھی کی چمک اس کے نگینے کی وجہ سے تھی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نگینہ چاندی کا تھا جبکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس کا نگینہ حبشی تھا۔
(سنن أبي داود، حدیث: 4216)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس کا ڈیزائن یا نقش حبشی تھا۔
اگر اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ نگینہ حبشہ کا سیاہ پتھر وہاں کا عقیق تھا تو ممکن ہے کہ دو انگوٹھیاں ہوں ایک چاندی کے نگینے والی اور دوسری حبشہ کے سیاہ پتھر کے نگینے والی۔
ایک حدیث میں ہے کہ وہ انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا ملمع کیا گیا تھا اور حضرت معقیب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ تھے۔
(سنن أبي داود، الخاتم، حدیث: 4224) (2)
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دو انگوٹھیاں تھیں۔
ایک خالص چاندی کی اور دوسری لوہے کی جس پر چاندی کا ملمع کیا گیا تھا۔
لوہے پر جس چیز کا ملمع کیا گیا ہو وہ اسی کے حکم میں ہو گا۔
(فتح الباري: 396/10)
یہ جب ہے کہ شاہان عالم کو دعوتی خطوط لکھے جائیں اس سے تحریری تبلیغ کا بھی مسنون ہونا ثابت ہوا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب شاہان عالم کو دعوتی خطوط لکھے جائیں تو وہ دعوت باضابطہ طور پر سربراہ کی مہرسے مزین ہونی چاہیے۔
عمومی دعوت ان کے شان کے شایان نہیں۔
دعوت دینے کے بعد اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو پھر ان کے خلاف جہاد کیا جائے۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث کے فوائد میں ملاحظہ کریں۔
اب یہ خطرہ نہیں ہے اس لیے کلمہ لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ بھی نقش کرایا جا سکتا ہے۔
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
(صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5490 (2078)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درمیانی اور شہادت والی انگلی میں انگوٹھی نہیں پہننی چاہیے بلکہ چھنگلیا اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہنی جائے۔
ان انگلیوں میں انگوٹھی پہننے میں حکمت یہ ہے کہ یہ ہاتھ کے ایک طرف ہوتی ہیں اور کوئی چیز پکڑتے وقت یہ انگلیاں بہت کم استعمال ہوتی ہیں، اس طرح انگوٹھی کی توہین نہیں ہوتی۔
(2)
مستحب یہ ہے کہ انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنی جائے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے (سنن أبي داود، الخاتم، حدیث: 4226)
اگرچہ بائیں ہاتھ میں بھی پہنی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5489 (2095)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش "محمد رسول اللہ" تین سطروں پر مشتمل تھا اور ان کی کتابت نیچے سے اوپر کو تھی۔
لفظ اللہ تینوں سطروں سے اوپر لفظ محمد سب سے نیچے اور رسول کا لفظ درمیان میں تھا۔
اس کی صورت یہ تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو خطوط مبارک ملے ہیں ان پر اسی انداز کی مہر لگی ہوئی ہے۔
(2)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں چھ سال تک یہ انگوٹھی رہی، ساتوین سال یہ بئر اریس میں گر گئی۔
یہ کنواں مسجد قباء کے پاس تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ امور سلطنت میں غوروفکر کرتے ہوئے ایسے کھو گئے کہ انگوٹھی کو بار بار اتارتے اور پہنتے، اسی دوران میں وہ کنویں میں گر گئی، پھر بہت تلاش کرنے کے باوجود دستیاب نہ ہو سکی۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نقش مبارک کی ترتیب نیچے سے اوپر کی صراحت مجھے نہیں مل سکی بلکہ اسماعیلی کی روایت اس کے خلاف ہے۔
اس میں ہے کہ محمد پہلی سطر، رسول دوسری سطر اور لفظ اللہ تیسری سطر تھی اور انہیں الٹا لکھا گیا تھا تاکہ مہر لگاتے وقت سیدھے الفاظ ظاہر ہوں۔
(فتح الباري: 405/10)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش "محمد رسول اللہ" کی حیثیت چونکہ سرکاری تھی، اس لیے اس جیسے نقش کی انگوٹھی بنوانے سے روک دیا گیا اور اس نقش کی سرکاری حیثیت کی وجہ ہی سے بعد میں اسے خلفائے ثلاثہ بھی استعمال کرتے رہے حتی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے جب وہ انگوٹھی گم ہو گئی تو انہوں نے اسی نقش والی انگوٹھی دوبارہ بنوائی، اس بنا پر ہمارا رجحان یہ ہے کہ حاکم وقت، قاضی، مفتی یا دوسرے صاحب اختیار افسران بالا کی مہر کی نقل تیار کرنا منع ہے کیونکہ اس سے جعل سازی اور فریب کاری کا دروازہ کھلتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش کی مثل نقش کندہ کرانے کی ممانعت آپ کی حیات طیبہ سے خاص تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ نقش کندہ کرانا جائز ہے، چنانچہ تینوں خلفائے راشدین اسی انگوٹھی کو استعمال کرتے تھے، البتہ اپنا نام یا اللہ کا ذکر کندہ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں اپنے نام یا اللہ کا ذکر کندہ کرانے کا ذکر ہے۔
(فتح الباري: 403/10)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی صرف زینت کے لیے نہیں بلکہ وہ مہر کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی، اس لیے جن حضرات کو مہر کی ضرورت ہو وہ اپنی انگوٹھی پر اپنا یا اپنے ادارے کا نام کندہ کرا سکتے ہیں، اور جنہیں اس کی ضرورت نہ ہو وہ سادہ انگوٹھی استعمال کریں۔
احادیث میں متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے انگوٹھی پہننا منقول ہے۔
واللہ أعلم
«. . . قَالَ:" كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ، فَقِيلَ لَهُ . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی بادشاہ کے نام دعوت اسلام دینے کے لیے) ایک خط لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ بغیر مہر کے خط نہیں پڑھتے . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 65]
مناولہ اصطلاح محدثین میں اسے کہتے ہیں اپنی اصل مرویات اور مسموعات کی کتاب جس میں اپنے استادوں سے سن کر حدیثیں لکھ رکھی ہوں اپنے کسی شاگرد کے حوالہ کر دی جائے اور اس کتاب میں درج شدہ احادیث کو روایت کرنے کی اس کو اجازت بھی دے دی جائے، تو یہ جائز ہے اور حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد یہی ہے۔ اگر اپنی کتاب حوالہ کرتے ہوئے روایت کرنے کی اجازت نہ دے تو اس صورت میں «حدثني» یا «اخبرني فلاں» کہنا جائز نہیں ہے۔ حدیث نمبر 64 میں کسریٰ کے لیے بددعا کا ذکر ہے کیوں کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک چاک کر ڈالا تھا، چنانچہ خود اس کے بیٹے نے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔ سو جب وہ مرنے لگا تو اس نے دواؤں کا خزانہ کھولا اور زہر کے ڈبے پر لکھ دیا کہ یہ دوا قوت باہ کے لیے اکسیر ہے۔ وہ بیٹا جماع کا بہت شوق رکھتا تھا جب وہ مر گیا اور اس کے بیٹے نے دواخانے میں اس ڈبے پر یہ لکھا ہوا دیکھا تو اس کو وہ کھا گیا اور وہ بھی مر گیا۔ اسی دن سے اس سلطنت میں تنزل شروع ہوا، آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ ایران کے ہر بادشاہ کا لقب کسریٰ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے کے کسریٰ کا نام پرویز بن ہرمزبن نوشیروان تھا، اسی کو خسرو پرویز بھی کہتے ہیں۔ اس کے قاتل بیٹے کا نام شیرویہ تھا، خلافت فاروقی میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ایران فتح ہوا۔
مناولہ کے ساتھ باب میں مکاتبت کا ذکر ہے جس سے مراد یہ کہ استاد اپنے ہاتھ سے خط لکھے یا کسی اور سے لکھوا کر شاگرد کے پاس بھیجے، شاگرد اس صورت میں بھی اس کو اپنے استاد سے روایت کر سکتا ہے۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی خداداد قوت اجتہاد کی بنا پر ہر دو مذکورہ احادیث سے ان اصطلاحات کو ثابت فرمایا ہے پھر تعجب ہے ان کم فہموں پر جو حضرت امام کو غیر فقیہ اور زود رنج اور محض ناقل حدیث سمجھ کر آپ کی تخفیف کے درپے ہیں۔ «نعوذ بالله من شرورانفسنا»
اگراپنی کتاب حوالہ کرتے ہوئے روایت کرنے کی اجازت نہ دے تو اس صورت میں حدثنی یا أخبرنی فلان کہنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر64 میں کسریٰ کے لیے بددعا کا ذکر ہے کیوں کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک چاک کر ڈالا تھا، چنانچہ خود اس کے بیٹے نے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔
سوجب وہ مرنے لگا تواس نے دواؤں کا خزانہ کھولا اور زہر کے ڈبے پر لکھ دیا کہ یہ دوا قوت باہ کے لیے اکسیر ہے۔
وہ بیٹا جماع کا بہت شوق رکھتا تھا جب وہ مرگیا اور اس کے بیٹے نے دواخانے میں اس ڈبے پر یہ لکھا ہوا دیکھا تو اس کو وہ کھا گیا اور وہ بھی مرگیا۔
اسی دن سے اس سلطنت میں تنزل شروع ہوا، آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا۔
ایران کے ہر بادشاہ کا لقب کسریٰ ہوا کرتا تھا۔
اس زمانے کے کسریٰ کا نام پرویز بن ہرمزبن نوشیروان تھا، اسی کو خسرو پرویز بھی کہتے ہیں۔
اس کے قاتل بیٹے کا نام شیرویہ تھا، خلافت فاروقی میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ایران فتح ہوا۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی خداداد قوت اجتہاد کی بنا پر ہردو مذکورہ احادیث سے ان اصطلاحات کو ثابت فرمایا ہے پھر تعجب ہے ان کم فہموں پر جو حضرت امام کو غیرفقیہ اور زودرنج اور محض ناقل حدیث سمجھ کر آپ کی تخفیف کے درپے ہیں۔
نعوذ باللہ من شرور أنفسنا
1۔
صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اہل عجم کو مکتوب لکھنے کا ارادہ فرمایا (حدیث: 5872)
، دوسری روایت کے مطابق اہل روم کو خط لکھنے کا پروگرام بنایا(حدیث: 5875)
۔
بہرحال جب آپ نے سلاطین عالم کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کاارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ جس خط پر مہر نہ ہو، یہ لوگ اسے ہاتھ نہیں لگاتے۔
چونکہ مقصد ان لوگوں تک دعوت اسلام پہنچانا تھا، اس لیے آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ تنبیہ کی ہے کہ مکاتبہ وہ معتبر ہوگا جس پر مہرہو۔
یہ بھی اعتماد کے لیے ہے۔
اگرمکتوب الیہ تحریر پہچانتا ہو اور اسے اعتماد ہوتو غیر مختوم تحریر پر عمل بھی درست ہے۔
اگر مکتوب الیہ تحریر نہیں پہچانتا اور اسے اعتماد بھی نہیں تو صرف مہر کا اعتبار نہیں کیا جائےگا کیونکہ مہر بھی جعلی ہوسکتی ہے۔
اس حدیث سے اتنا تو معلوم ہوا کہ علم کے سلسلے میں مکاتبت کا اعتبار ہے لیکن شرط یہی ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انتقال میں کوئی کمزوری نہ آئے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ مکاتبت کی صورت بھی مشافہت(رُو دررُو)
کی طرح لائق استناد ہے۔
2۔
آپ نے چاندی کی انگوٹھی اس لیے بنوائی تھی تاکہ آپ کے خطوط کا اعتبار کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے پاس رکھا، بالآخر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی حتیٰ کہ بئراریس میں گرگئی اور تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکی۔
انگوٹھی کے متعلق مفصل گفتگو کتاب اللباس میں کی جائےگی۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اقسام تحمل حدیث سے صرف چار کا ذکر کیا ہے۔
(1)
۔
سماع من الشیخ۔
(2)
۔
قراءۃ علی الشیخ۔
(3)
۔
مناولہ۔
(4)
۔
مکاتبہ۔
باقی اقسام: وجادہ، اعلام، وصیہ، جن میں اجازت نہیں ہوتی، کا ذکر نہیں کیا۔
کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 205/1)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خط پر عمل ہو سکتا ہے جب وہ سر بمہر ہو تو اس کے قابل اعتبار ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن تاریخی طور پر یہ بات ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہر شدہ خط پر کسی نے گواہی طلب کی ہو کہ یہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خط ہے جعلی طور پر کسی دوسرے نے نہیں لکھا۔
2۔
بہر حال اس حدیث سے مہر شدہ خط اور ایک قاضی کے دوسرے قاضی کو خط لکھنے کے جواز پر استدلال موجود ہے۔
پھر مالی معاملات اور قصاص و حدود کی تفریق کرنا بھی خود ساختہ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کی تخصیص کے متعلق کوئی دلیل نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔w
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ (عقیق) حبشہ کا بنا ہوا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1739]
وضاحت:
1؎:
آنے والی انس کی روایت جس میں ذکر ہے کہ نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور باب کی اس روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیوں کہ احتمال ہے کہ آپ کے پاس دوقسم کی انگوٹھیا ں تھیں، یا یہ کہاجائے کہ نگینہ چاندی کا تھا، حبشہ کی جانب نسبت کی وجہ یہ ہے کہ حبشی نقش ونگار یا طرز پر بناہواتھا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4216]
حبشی نگینے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی بناوٹ کا انداز حبشی تھا یا پتھر حبشے کا تھا۔
کالے رنگ کی وجہ سے اسے حبشی کہا گیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4214]
رسول اللہﷺ کی انگوٹھی محض زینت کے لیئے نہیں تھی، بلکہ بطور مہر استعمال ہوتی تھی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4221]
بعض شارحین (امام نووی وغیرہ) نے کہا ہے کہ نبیﷺ نے جو انگوٹھی پھینکی تھی وہ سو نے کی تھی، جیسا کہ دوسری روایت سے ثابت ہے، اس لیئے چاندی کی انگوٹھی کہنا امام زہری کا وہم ہے۔
واللہ اعلم (عون المعود)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5282]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ہے، لہٰذا اب کوئی ایسا نقش نہ کرائے۔" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5283]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی ایک انگوٹھی تھی، اسے آپ دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ آپ نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5200]
(2) "ہتھیلی کی جانب" کیونکہ آپ نے اسے زینت کے لیے نہیں پہنا تھا بلکہ مہر لگانے کےلیے پہنا تھا۔ ویسے کوئی حرج نہیں اگر نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف بھی کر لیا جائے کیونکہ منع کی کوئی دلیل نہیں۔
(3) مذکورہ احادیث صحیحہ سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور پہنی۔ آپ کے صحابہ نے بھی نبی ﷺ کے اس طریقے کو اپنایا اور ائمہ دین نے بھی اس پر عمل کیا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس کا نگینہ حبشی تھا ۱؎ اور اس میں ـ «محمد رسول اللہ» نقش کیا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5199]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت ہردو کے لیے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز اور مشروع ہے۔ بعض روایات میں سلطان اور حاکم کے علاوہ دوسرے لوگوں کو انگوٹھی پہننے سے منع کیا گیا ہے تو ان دونوں قسم کی روایات میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ نہی تنزیہ پر محمول ہے، یعنی حاکم وغیرہ کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے انگوٹھی نہ پہننا بہتر ہے۔ واللہ أعلم۔
(3) انگوٹھی یا اس کے نگینے پر کوئی نقش وغیرہ بنوانا جائز ہے، نیز اپنا نام یا کوئی کلمۂ حکمت وغیرہ بھی کندہ کرایا جاسکتا ہے۔ اہل علم کے صحیح قول کے مطابق اس پر اللہ تعالی کا اسم مبارک "اللہ" بھی کندہ کرایا اور لکھوایا جاسکتا ہے۔ بعض علماء نے اس سے منع کیا ہے لیکن ممانعت والا قول ضعیف اور مرجوح قراردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سونے کی انگوٹھی کی طرح سونے کا نگینہ بھی ناجائز ہوگا۔
(4) "حبشی" یعنی حبشی انداز کا بنا ہوا تھا۔ یا حبشہ کا بنا ہوا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس عقیق، ماربل یا قیمتی پتھر کا تھا وہ حبشہ سے لائے گئے تھے کیونکہ ایسے پتھروں وغیرہ کی کانیں ادھر، یمن اور حبشہ میں تھیں۔ بعض نے معنیٰ کیے ہیں کہ ا س کا نگینہ سیاہ تھا۔ اس وجہ سے اسے حبش کہا گیا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔ اس کی بابت یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختلف انگوٹھیاں تھیں، اس لیے کسی کا نگینہ چاندی کا تھا اور کسی کا حبشی تھا۔ بعض محققین نے یہ تطبیق دی ہے کہ حبشی نگینہ سونے کی انگوٹھی کا تھا اور چاندی کی انگوٹھی میں نگینہ چاندی ہی کا تھا۔ یہاں راوی کو غلطی لگی جو اس نے حبشی نگینہ چاندی کی انگوٹھی سے منسوب کردیا۔ یہ اما م بیہقی کا قول ہے۔ واللہ أعلم۔
(5) "کندھ تھے" رسو ل اللہ ﷺ کے جو خطوط سامنے آئے ہیں ان میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ یہ تینوں الفاظ ایک سطر میں نہیں لکھے گئے بلکہ تین سطروں میں ہیں۔ سب سے اوپر لفظ "اللہ" درمیان میں لفظ "رسول" اور نیچے لفظ "محمد" ﷺ ہے۔ اس ترتیب سے آپ کا حسن ادب واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا نام باوجود ترتیب میں مقدم ہونے کے نیچے رکھا اور لفظ "اللہ" اوپر۔ فداہ أبي وأمي ونفسي وروحي ﷺ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی آپ کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5286]
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5206]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا۔ آپ نے فرمایا: " جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے۔" [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5210]
(2) اس حدیث مبارکہ اور اس کے بعد والی حدیث کی مناسبت مذکورہ باب کے ساتھ نہیں بنتی۔ بہتر اور افضل یہ تھا کہ ان احادیث پر اسی طرح باب باندھا جاتا جیسا کہ سنن الکبریٰ میں قائم کیا گیا ہے، یعنی اس بات کی ممانعت کہ کوئی شخص انگوٹھی پر یہ الفاظ نقش کرائے "مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ"۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں «محمد رسول الله» کا نقش تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3641]
فوائد و مسائل:
(1)
صحیح بخاری کی روایت میں ہے: نبی ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی میں سے تھا۔ (صحيح البخاري، اللباس، باب فصّ الخاتم، حديث: 5869)
حافظ ابن حجر نے حبشی نگینہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس کا ڈیزائن یا نقش حبشى انداز کا تھا۔
اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ وہ حبشہ کے علاقے کا پتھر یا عقیق تھا تو ممکن ہے کہ دو انگوٹھیاں ہوں۔
ایک چاندی کے نگینے والی اور ایک پتھر کے نگینے والی۔
واللہ أعلم۔ (فتح الباري: 10 /396)
(2)
مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
(3)
انگوٹھی میں کوئی لفظ یا حرف کندہ کرانا جائز ہے۔
(4)
خلیفہ قاضی یا دوسرے افسران کی مہر کی نقل تیار کرنا منع ہے کیونکہ اس سے جعل سازی اور فریب کا دروازہ کھلتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انگوٹھی پہننا سنت ہے اور انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہننی چاہیے، بعض لوگوں کا پانچوں انگلیوں میں انگوٹھیاں پہنا درست نہیں ہے، نیز مردوں پر سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، افسوس کہ شادی بیاہ کے موقع پر دولہا بڑے فخر سے سونے کی انگوٹھی پہنتے ہیں، جو لوگ دنیا میں سونا پہنتے ہیں، ان کو قیامت کے دن سونا نہیں پہنایا جائے گا۔