صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ: باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ، قَالَ : " فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهُ ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ہی دن چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا کر پہن لیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ : " رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ " ,روح نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے زیاد نے بتایا کہ ابن شہاب نے انہیں خبر دی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، پھر سب لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں ڈھلوائیں اور پہن لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت سے پہلے سونے کی انگوٹھی بنائی تھی اور بعد میں حرمت معلوم ہونے سے اسی انگوٹھی کو اتار دیا تھا اور اس کے بجائے چاندی کی انگوٹھی کا استعمال شروع کیا تھا۔
یہاں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اور اس کو آپ نے اتار دیا تھا حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔
روایت میں مذکور زہری اپنے دادا حضرت زہرہ بن کلاب کی طرف منسوب ہیں۔
کنیت ابوبکر نام محمد، عبداللہ بن شہاب کے بیٹے بہت بڑے فقیہ اور محدث ہیں۔
رمضان سنہ164ھ میں وفات پائی۔
رحمه اللہ تعالیٰ۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پھینکی تھی تو لوگوں نے بھی اپنی چاندی کی انگوٹھیاں پھینک دی تھیں، لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پھینکی تھی اور لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں پھینکی تھیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک توجیہ ان الفاظ میں ذکر کی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینت کے طور پر سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
جب لوگوں نے آپ کے اتباع میں سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں تو حرمت کا حکم نازل ہوا تو آپ نے اور لوگوں نے انہیں اتار پھینکا، پھر بطور مہر چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔
اس میں "محمد رسول اللہ" کے الفاظ کندہ کرائے تو لوگوں نے اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار دی تاکہ لوگ بھی اپنی اپنی کندہ انگوٹھیاں اتار دیں کیونکہ ان کی موجودگی میں سرکاری مہر کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہ جاتی تھی۔
جب لوگوں نے اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں اور ان کا وجود ختم ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 394/10) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ کوئی شخص بھی میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح اپنی انگوٹھی پر نقش نہ بنوائے۔
(صحیح مسلم، اللباس، حدیث: 5473 (2091)
اس کے باوجود لوگوں نے اپنی انگوٹھیوں پر یہ نقش کندہ کرایا۔
اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید ان لوگوں کو ممانعت نہ پہنچی ہو یا وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے دلوں میں ابھی ایمان پختہ نہیں ہوا تھا جیسا کہ منافقین وغیرہ تھے، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی جیسی انگوٹھیاں بنوا لیں اور ان میں آپ کا نقش بھی کندہ کرایا تو آپ نے اظہار ناراضی کرتے ہوئے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی۔
(فتح الباري: 394/10)
واللہ أعلم