صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب جَوَازِ اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ: باب: قالین یا سوزینوں کے جواز کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لعمرو وَقَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا تَزَوَّجْتُ اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا ؟ " ، قُلْتُ : وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ " .قتیبہ بن سعید، عمرو ناقد اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں سفیان نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا ؟ " ، قُلْتُ : وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ " ، قَالَ جَابِرٌ : وَعِنْدَ امْرَأَتِي نَمَطٌ ، فَأَنَا أَقُولُ نَحِّيهِ عَنِّي ، وَتَقُولُ قَدْ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ .وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہو جائیں گے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: میری بیوی کے پاس ایک غلاف تھا میں اس سے کہتا تھا: اسے مجھ سے دور رکھو، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”عنقریب غلاف ہوا کریں گے۔“
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَأَدَعُهَا .عبدالرحمن نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: تو میں اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
انماط: نمط کی جمع ہے، بستر کے ابرہ یعنی دہرے کپڑے کی اوپر کی تہہ کو یا بستر پوش کو کہتے ہیں، قالین اور غالیچہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث میں آپ نے فتوحات کے سبب مال و دولت کے حصول اور آسائشوں کی فراہمی کی پیشن گوئی فرمائی، جو حرف بحرف پوری ہوئی، خلفائے راشدین کے دور میں فتوحات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو ہر قسم کی سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں۔
اس سے حضرت امام بخاری نے پردے یا سوزنی کا جواز نکالا لیکن مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر سے یہ پردہ نکال کر پھینک دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہم کو یہ حکم نہیں ملا کہ ہم مٹی پتھر کو یہ کپڑا پہنائیں۔
اکثر شافعیہ نے اسی حدیث کی بنا پر دیواروں پر کپڑا لگانا مکروہ حرام رکھا ہے۔
ابو داؤد کی روایت میں یوں ہے کہ دیوار کو کپڑے سے مت چھپاؤ۔
اس حدیث میں صاف ممانعت ہے جب دیواروں پر کپڑا ڈالنا منع ہوا تو قبروں پرچادریں غلاف ڈالنا کیوں منع نہ ہوگا مگر جاہلوں نے قبروں پر عمدہ سے عمدہ غلاف ڈالنا جائز بنا رکھا ہے جو سراسر بت پرستی کی نقل ہے بت پرست بتوں کو قیمتی لباس پہناتے ہیں، قبر پرست قبروں پر قیمتی غلاف ڈالتے ہیں۔
پھر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔
(1)
ايك روايت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی کا ایک نمدا تھا۔
انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے ہم سے دور کر دو تو وہ جواب دیتی: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ’’عنقریب تمہارے لیے نمدے ہوں گے۔
‘‘ میں اس کی یہ بات سن کر اسے چھوڑ دیتا ہوں۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3631) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمدوں کا استعمال جائز ہے۔
اگر ناجائز ہوتا تو آپ اس سے منع فرما دیتے لیکن ریشم کے نمدوں کی ممانعت دیگر احادیث سے ثابت ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ دلہن کےلیے اس قسم کے تکلفات جائز ہیں لیکن شرعی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے خود اس صداقت کو دیکھا۔
یہ علامت نبوت میں سے ایک اہم علامت ہے، یہی حدیث اور باب میں وجہ مطابقت ہے۔
1۔
یہ حدیث بھی رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ کو خبر دی تھی کہ عنقریب تمھارے ہاں بچھانے کے لیے قالین ہوں گے چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق ایسا ہی ہوا۔
2۔
اس سے معلوم ہوا کہ قالین بچھانا جائز ہے اور ایسا کرنا اسراف میں داخل نہیں بشرط یہ کہ حقیقی ضرورت کے پیش نظر اسے بچھایا جائے،البتہ دیوار پوشی یا اظہارنمائش کے لیے ایسا کرنا درست نہیں۔
3۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی جائز کام میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کہ جواز کی دلیل بنایا جاسکتا ہے جیسا کہ حضرت جابر ؓ کی بیوی نے اس خبر کو بطور دلیل پیش کیا اور حضرت جابر ؓ بھی سن کر خاموش ہوگئے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ پیش گوئی حضرت جابر ؓ کی شادی کے موقع پر دی تھی۔
(فتح الباري: 769/6)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس «انماط» (غالیچے) ہیں؟ “ میں نے کہا: غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” تمہارے پاس عنقریب «انماط» (غالیچے) ہوں گے۔“ (تو اب وہ زمانہ آ گیا ہے) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» (غالیچے) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کر جاتا ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2774]
وضاحت:
1؎:
آپﷺ نے جوپیشین گوئی کی تھی کہ مسلمان مالدار ہو جائیں گے، اورعیش وعشرت کی ساری چیزیں انہیں میسر ہوں گی بحمد اللہ آج مسلمان آپﷺ کی اس پیشین گوئی سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں، اس حدیث سے غالیچے رکھنے کی اجازت کا پتا چلتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ “ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4145]
مسلمان کا بستر بھی صاف ستھرا اور نفیس ہو تو زہد کے خلاف نہی ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ” کیا تم نے گدے و غالیچے بھی بنائے ہیں؟ “ میں نے کہا: ہمیں کہاں یہ گدے اور غالیچے میسر ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” عنقریب تمہارے پاس یہ ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3388]
اس حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خوشخبری دی گئی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت زیادہ فتوحات حاصل کر سکیں گے، کفار کے مال صحا بہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئیں گے، اللہ تعالیٰ صحابہ رضی اللہ عنہم کوفراوانی عطا فرمائیں گے، اور ایسے ہی ہوا۔