صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ وَالاِقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ وَمَا فِيهِ أَعْلاَمٌ: باب: لباس میں تواضع اختیار کرنے اور سادہ اور موٹا کپڑا پہننے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " .عبدہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگاتے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ " .علی بن مسہر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر (گدا) جس پر آپ سوتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ يَنَامُ عَلَيْهِ .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں فِراش کی جگہ ضِجَاع ہے، جس پر لیٹا جاتا ہے اور ابو معاویہ کی حدیث میں، اس پر آپﷺ سوتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
أدم: أديم کی جمع ہے، رنگا ہوا چمڑا۔
(2)
ليف: کھجورکی چھال۔
آج اکثر مدعیان عمل بالسنہ کیا ایسی زندگی پر قناعت کر سکتے ہیں جن کے عیش کو دیکھ کر شاید فرعون وہامان بھی محو حیرت ہو جائیں۔
(1)
ایک حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس کے نشانات آپ کے جسم مبارک پر نمایاں تھے اور سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال تھی۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5843) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر دیکھا جو ایک تہ شدہ چادر پر مشتمل تھا۔
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بستر بھیجا جس میں اون بھری ہوئی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر آئے اور اسے دیکھا تو فرمایا: ’’عائشہ! اسے واپس کر دو،اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو سونے اور چاندی میں بدل دے۔
‘‘ (فتح الباري: 354/11، والصحیحة للألباني، حدیث: 2484)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ (بستر) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2469]
وضاحت:
1؎:
یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ ﷺ کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4146]
ضروریات زندگی میں کفالت اور قناعت سے کام لینا چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4151]
فوائد و مسائل:
مطلب یہ ہے کہ بستر عمدہ کپڑے کا نہیں تھا جس میں اون یا روئی بھری ہوئی ہو بلکہ چمڑے کا بستر بنا ہوا تھا، اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی جو سخت اور ناہموار ہوتی ہے۔
لیکن چمڑے کی وجہ سے اس کی سختی زیادہ محسوس نہیں ہوتی۔
اہل عرب چمڑے کو سادہ انداز سے تیار کرتے تھے جو نہ زیادہ قیمتی ہوتا تھا، نہ خوبصورت۔
اس لحاظ سے چمڑے کا بستر انتہائی سادگی کی مثال ہے۔