حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ ، قَالَ : " فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ " .

سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں حمید نے ابوبردہ سے حدیث سنائی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک موٹا تہبند جو یمن میں بنایا جاتا ہے اور ایک اوپر کی چادر (موٹی سخت اور پیوند لگے ہونے کی وجہ سے) جسے مُلبَدہ کہا جاتا ہے نکال کر دکھائی، کہا: انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو کپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا۔

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال : " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا وَكِسَاءً مُلَبَّدًا ، فَقَالَتْ : فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : فِي حَدِيثِهِ إِزَارًا غَلِيظًا " .

علی بن حجر سعدی محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابراہیم نے (اسماعیل) ابن علیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک تہبند اور ایک پیوند لگی ہوئی موٹی چادر نکال کر دکھا اور فرمایا: ”انہی دو کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔“ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا: موٹا تہبند۔

وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : إِزَارًا غَلِيظًا .

معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا: موٹا تہبند۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2080
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5818 | صحيح مسلم: 2080 | سنن ابي داود: 4036

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو بردہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں گیا تو انہوں نے یمن میں بنائی جانے والی ایک موٹی تہبند اور ایک کمبل نکالا جس کو مُلَبَّدَه [صحيح مسلم، حديث نمبر:5442]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ملبدة: مختلف ٹکڑوں کو ملاکربنائی گئی یا پیوند لگی لوئی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2080 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5818 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5818. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی اور ایک موٹی چادر دکھائی اور فرمایا کہ نبی ﷺ کی روح ان دونوں کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5818]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: موٹی چادر یمن کی بنی ہوئی تھی اور کمبل بھی اسی قسم کا تھا جسے تم مُلَبدہ کہتے ہو۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3108) (2)
دراصل لِبدہ کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو پیوند لگانے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمبل پیوند شدہ تھا یا اس کی بُنتی اس طرح کی تھی کہ چار خانے بنے ہوتے تھے اور وہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پیوند لگے ہوئے ہوں، بہرحال اس طرح کے کپڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال تھے، لہذا انہیں اوڑھنے یا پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5818 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4036 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔`
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4036]
فوائد ومسائل:
موٹے لباس سے طبعیت میں قوت وصلابت اور مردانہ صفات اجاگر ہوتی ہیں، چنانچہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ اپنے عمال کو موٹا لباس پہننےکا پابند کیا کرتے تھے، جبکہ باریک اور ملائم لباس سے طبعیت میں نزاکت بڑھتی ہے، تاہم حسب احوال ومصالح اونی، سوتی، موٹا یا باریک لباس پہننا مباح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4036 سے ماخوذ ہے۔