صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ}: باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا ، فَهَتَفَ : يَا صَبَاحَاهْ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ قَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا ، قَالَ : فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا ، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ،حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب یہ آیت اتری: ”اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ اور ان میں سے خاص کر اپنے خاندان کے سچے اور مخلص لوگوں کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر صفا پہاڑ پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ”دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ!“ لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: یہ کون آواز دے رہا ہے؟ جواب ملا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد!“ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتاؤ! اگر میں تمھیں اطلاع دوں، کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انھوں نے کہا: ہم نے تمھیں کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھیں سخت عذاب (کی آمد) سے پہلے ڈرا رہا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ! کیا تو نے ہمیں اس خاطر جمع کیا تھا؟ پھر وہ کھڑا ہو گیا، تو اس پر یہ سورت اتری! «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ» ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے۔“ یقیناً وہ خود ہلاک ہوا۔ (سورۂ لہب) اعمش رحمہ اللہ نے پوری سورت قراءت کی اور «قَد تَبَّ» کے اضافے سے پڑھا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا ، فَقَالَ : " يَا صَبَاحَاهْ " ، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 .امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہِ صفا پر چڑھے اور فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ابو اسامہ رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی۔ لیکن آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» کے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔