صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ: باب: کسم کا رنگ مرد کے لیے درست نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عن نافع ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ " .نافع نے ابراہیم بن عبداللہ حنین سے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قس (علاقے) کے بنے ہوئے (ریشمی کپڑے) اور گیروے رنگ کے کپڑے پہننے سے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ " .یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے حدیث بیان کی ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب میں رکوع کر رہا ہوں قرآن مجید پڑھنے سے اور (عمومی حالت میں) سونا اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قال : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ " .معمر نے زہری سے، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ حنین سے انہوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکوع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا ، لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَيِّ الثِّنْتَيْنِ " ، " وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ " ، قَالَ : فَأَمَّا الْقَسِّيِّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا ، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ .حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں یا اس کے ساتھ والی میں ڈالوں، عاصم کو معلوم نہیں، وہ کون سی انگلیاں ہیں اور آپ نے مجھے قسی پہننے سے اور ریشمی زین پوشوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا اور بتایا قسی سے مراد وہ چار خانہ دار کپڑے ہیں، جو مصر اور شام سے آتے تھے، ان میں اس قسم کی تصویر ہوتی، رہے میاثر تو یہ ایک چیز ہے جو عورتیں اپنے خاوندوں کے پالان پر ڈالتی تھیں، جس طرح ارغوانی چادریں ہوتی ہیں۔
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ ابْنٍ لَأَبِي مُوسَى ، قال : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .سفیان نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) کے ایک بیٹے سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی۔
وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قال : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قال : نَهَى أَوْ نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .شعبہ نے عاصم بن کلیب سے روایت کی، کہا: میں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: منع فرمایا، یا مجھے منع فرمایا، ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی (اس کے بعد) اسی طرح بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
فوائد ومسائل: حضرت علی ؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی! کسم کا رنگا ہوا مت پہن۔
یہ نہیں فرمایا: لوگو! یہ رنگ نہ پہنو تاہم حکم سب کے لئے ایک ہی ہے۔