صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا: باب: مرد کو حریر پہننا خارش وغیرہ کسی عذر سے درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّام ِ فِي الْقُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا أَوْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی، کیونکہ ان دونوں کو خارش یا کوئی اور تکلیف تھی۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السَّفَرِ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس نے سفر کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہما کو انہیں لاحق ہونے والی خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا " .ہمام نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث سنائی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں (کی خارش) کی شکایت کی تو آپ نے ان دونوں کو انہیں پیش آنے والی جنگ کے دوران میں ریشم پہننے کی اجازت دے دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
حكة: خارش۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جوؤں کی وجہ سے انہیں خارش ہو گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2920)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: (باب الحرير في الحرب)
’’دوران جنگ میں ریشم استعمال کرنا۔
‘‘ (2)
جنگ کے دوران میں ریشم کا لباس اس لیے استعمال کیا جاتا تاکہ تلوار کا وار، کاری ضرب ثابت نہ ہو، بہرحال خارش یا جوؤں کی وجہ سے اور دوران جنگ میں ریشم کا لباس پہننے کی اجازت ہے، اسی طرح ہر وہ بیماری جس میں ریشم پہننے سے افاقہ ہو جاتا ہو یا گرمی سردی سے بچنے کے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی دوسرا کپڑا نہ مل سکے۔
(فتح الباري: 364/10)
اب دوسری روایت میں اجازت کی علت جوئیں مذکور ہیں اس روایت میں کھجلی۔
دونوں میں تطبیق یوں ہوگی کہ پہلے جوئیں پڑی ہوں گی پھر جوؤں کی وجہ سے کھجلی پیدا ہوگئی ہوگی۔
کہتے ہیں ریشمی کپڑا خارش کو کھودیتا ہے اور جوؤں کو مار ڈالتا ہے (وحیدی)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4056]
اس قسم کی صورت میں علاج کی غرض سے مردوں کے لئے بھی ریشم پہننا جائز ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
(2) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ شریعت مطہرہ انتہائی آسان ہے نیز اس کے ساتھ ساتھ اس میں ضرورت مند اور مکلف لوگوں کی سہولت کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔
(3) یہ دوران سفر کا واقعہ ہے اس لیے بعض فقہاء نے خارش کے ساتھ ساتھ سفر کی شرط بھی لگائی ہے کیونکہ گھر میں تو خارش کا اور علاج بھی ممکن ہے۔ لیکن راجح بات یہی ہے کہ بطور علاج بہ حالت اقامت بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3592]
فوائد و مسائل:
(1)
ان حضرات کو جوؤں کی تکلیف بھی تھی۔ (صحيح البخاري، الجهاد والسير، باب الحرير، حديث: 2920)
ممکن ہے خارش اسی وجہ سے ہو۔
(2)
جن جلدی بیماریوں میں دوسرا لباس تکلیف کا باعث ہو اور ریشمی لباس فائدہ مند ہو تو اس صورت میں مردوں کو یہ لباس پہننا جائز ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس وجہ سے کہ ان کو خارش تھی۔ (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 418»
«أخرجه البخاري، اللباس، باب ما يرخص للرجال من الحرير للحكة، حديث:5839، ومسلم، اللباس، باب إباحة لبس الحرير للرجال، حديث:2076.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت زبیر رضی اللہ عنہ» یہ زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد قرشی اسدی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری‘ یعنی قریبی ساتھی تھے۔
آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور عشرۂ مبشرہ میں سے تھے۔
غزوات میں اسلام کے جری اور بہادرافراد میں شمار ہوتے تھے۔
جنگ جمل سے واپسی کے بعد ۳۶ ہجری کو شہید کر دیے گئے۔