صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَغَيْرِ ذٰلَكَ لِلرِّجَالِ باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا ، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ " .عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنا رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اس کو پہن لیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَر ، فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، معاذ کی روایت میں ہے، آپﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا اور محمد بن جعفر کی روایت میں ہے، میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا، اس میں حکم دینے کا ذکر نہیں ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِيرٍ ، فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا ، فَقَالَ : " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ بَيْنَ النِّسْوَةِ .حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، دومہ علاقہ کے رئیس اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کپڑا تحفتا بھیجا، آپ نے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے فاطمات میں دوپٹے بنا کر تقسیم کر دو۔‘‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، " فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي " .زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ دیکھا، کہا: پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میں نے یہ ریشمی جوڑا تجھے اس لیے نہیں دیا تھا کہ تو خود اسے پہن لے بلکہ میرا مقصد تھا کہ تو اسے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5420 (2071)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے فواطم کے درمیان تقسیم کر دیا۔
(صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5422 (2071)
فواطم سے مراد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر ہیں، دوسری فاطمہ بنت اسد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور تیسری فاطمہ جو سیدنا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔
بعض روایات میں چوتھی فاطمہ کا بھی ذکر ہے جو عقیل بن عبدالمطلب کی بیوی ہیں۔
(فتح الباري: 367/10) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کے لیے ریشم کا استعمال جائز ہے کیونکہ انہیں خاوند کے لیے زیب و زینت کی اجازت ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے: حضرت علی ؓ نے فاطمہ نامی اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
(صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5422(2071)
اس سے مراد حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ، آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد، فاطمہ بنت حمزہ اور فاطمہ بنت شیبہ ہو سکتی ہیں۔
(فتح الباري: 367/10)
رسول اللہ ﷺ اپنے خاندان کے افراد کو سادگی، صفائی اور کفایت شعاری کی تعلیم دینا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے ناگواری کا اظہار فرمایا۔
(2)
اگر یہ ذاتی طور پر حرام ہوتا تو آپ اس کا تحفہ کیوں دیتے۔
حضرت علی ؓ چونکہ آپ کے رمز شناس تھے، اس لیے آپ نے اسے پھاڑ کر خاندان کی عورتوں میں بانٹ دیا کہ وہ اسے اپنے استعمال میں لائیں۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: ” سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی “، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3596]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کپڑا خالص ریشم کا نہ ہو بلکہ آدھا سوتی اور آدھا ریشمی ہو تب بھی مردوں کے لئے اسے پہننا منع ہے۔
(2)
فاطماؤں سے مراد حضرت علی کے گھر کی وہ خواتین جن میں سے ایک کا نام فاطمہ تھا یعنی رسول اللہ ﷺ کی دختر جو حضرت علی کی اہلیہ تھیں دوسری حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، تیسری حضرت حمزہ کی بیٹی فاطمہ ؓ۔
(3)
تحفہ دینا اور قبول کرنا مسنون ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیراء کا پٹے دار ریشمی جوڑا عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر باہر نکلا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور پر غصہ اور ناراضگی کے آثار دیکھے، تو میں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 419»
«أخرجه البخاري، اللباس، باب الحرير للنساء، حديث:5840، ومسلم، اللباس، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة علي الرجال والنساء، حديث:2071.»
تشریح: 1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حلہ تحفے کے طور پر ملا تھا۔
آپ نے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زیب تن فرمایا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اظہار غصہ فرمایا اور ناراض ہوئے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمھیں پہننے کے لیے نہیں دیا تھا بلکہ اس لیے دیا تھا کہ گھر کی عورتیں پہن لیں۔
‘‘ (صحیح مسلم‘ اللباس والزینۃ‘ حدیث:۲۰۷۱) چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خواتین میں تقسیم کر دیا۔
2.اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہدیہ اور تحفہ قبول کرنا مسنون ہے‘ خواہ اس کا استعمال مرد کے لیے جائز نہ ہو۔