حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ ، قال : أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا ، فَقَالَتْ : هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ : هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، حَتَّى قُبِضَتْ ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا .

حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ (کیسان) سے روایت ہے، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں، دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے)۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”حریر (ریشم) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر (ریشم) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ (جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لیے پلاتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ، يقول : أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .

شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو! اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (یہ حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ ، قَالَ : إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قَالَ عَاصِمٌ : هَذَا فِي الْكِتَابِ ، قَالَ : وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ .

احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، کہا: جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف (خط میں) لکھ بھیجا: عتبہ بن فرقد! تمہارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمہاری کمائی سے ہے، نہ تمہارے ماں باپ کی کمائی سے، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھر کے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش و عشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناوؤں سے دور رہنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، مگر اتنا (جائز ہے)، (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں، درمیانی انگلی اور انگشت شہادت ملائیں اور انہیں ہمارے سامنے بلند فرمایا۔ زہیر نے کہا: عاصم نے کہا: یہ اس خط میں ہے، (ابن یونس نے) کہا: اور زہیر نے (بھی) اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔

حدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرِيرِ بِمِثْلِهِ .

جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهُوَ عُثْمَانُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا " ، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ : بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ ، فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ .

جریر نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم (کا لباس) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو، سوائے اتنے (ریشم) کے (اتنی مقدار جائز ہے)۔“ ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان (نشانات والی عبا) کے بٹنوں والی جگہ (کے برابر) ہو، یہاں تک کہ میں نے (اصل) طیلسان دیکھے، (وہ اتنی مقدار ہی تھی۔)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قال : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .

معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوعثمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جریر کی حدیث کے مانند۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ .

شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا، کہا: ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا، اس وقت ہم آذربائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے۔ ابوعثمان نے کہا: ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کہ ان کی مراد نقش و نگار سے ہے (جو کناروں پر ہوتے ہیں۔)

وحدثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ .

ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابوعثمان کا قول ذکر نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ " .

معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے عامر شعبی سے روایت کی، انہوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں (کی پٹی) کے۔

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2069
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام عبداللہ جو عطارد کی اولاد کے ماموں تھے، بیان کرتے ہیں، مجھے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس بھیجا اور کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں، کپڑوں کے نقش و نگار، ارغوانی گدے اور پورے رجب کے روزے تو حضرت عبداللہ ررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے جواب دیا: جو تو نے رجب کے بارے میں کہا تو وہ انسان جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے تو وہ یہ کیسے کہہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5409]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
العلم في الثوب: کپڑے کے نقش ونگار، بیل بوٹے۔
(2)
ارجوان: انتہائی سرخ رنگ، اگر گدانے سرخ ریشم کا تو جائز نہیں ہے، ریشم کےعلاوہ سرخ گدا جائز ہے۔
(3)
كيف بمن يصوم الابد: یہ بات وہ کیسے کہہ سکتا ہے، جو ممنوعہ ایام کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔
(4)
خفت ان يكون العلم منه: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ریشمی نقش ونگار ریشم کے حکم میں نہ ہوں۔
(5)
طيالسة: طيلسان کی جمع ہے، بادشاہوں اور سرداروں کا مخصوص لباس۔
(6)
كسروانيه: کسریٰ ایران کی طرف منسوب ہے۔
(7)
لبنة: گریبان کا نقش۔
(8)
فروج الجبة: جبہ کا دامن۔
(9)
خرجان: اگلا اورپچھلا چاق۔
المكفوف: سلا ہوا، گریبان، آستین اور دامن پر ریشمی بیل بوٹے، بشرطیکہ چار انگلی سے زائد نہ ہوں، جائز ہیں۔
فوائد ومسائل: حضرت اسماء رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ دکھایا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے، ریشم کے نقش و نگار ریشم کے حکم میں نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2069 سے ماخوذ ہے۔