صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ: باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ ، وَالدِّيبَاجِ " .معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کرتے ہیں، میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ کہتے سنا، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا، آپ نے ہمیں بیمار پرسی، جنازہ کے ساتھ جانے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم پوری کرنے یا قسم دینے والے کی بات پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور ہمیں انگوٹھیوں یا سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ریشمی گدوں پر بیٹھنے، قسی، ریشم، استبرق اور دیباج پہننے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ .امام صاحب ایک اور استاد سے اشعث بن سلیم ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں قسم کو پورا کرنے یا قسم دینے والے کی تصدیق کرنے کا ذکر نہیں ہے اور اسکی جگہ گم شدہ چیز کے اعلان کا ذکر ہے۔
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ : مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ .علی بن مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا: ”اور چاندی (کے برتن) میں پینے سے (منع کیا) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا۔“
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ .امام صاحب یہی روایت ابوکریب سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں جریر اور ابن مسہر والا اضافہ نہیں ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ ، وَقَالَ : نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ .شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، سوائے ان کے روایت کردہ الفاظ: ”سلام عام کرنے“ کے بجائے کہا: ”اور سلام کا جواب دینے“ اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك .ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر ”سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی“ کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
إِبْرَارِ الْقَسَمِ: اپنی قسم پوری کرنا، بشرطیکہ توڑنا بہتر نہ ہو۔
(2)
إِبْرَارِ لْمُقْسِمِ: قسم اٹھانے والے کی قسم بشرطیکہ اس کو پورا کرنا ممکن ہو، پوری کرنا، مثلاً کوئی انسان قسم اٹھاتا ہے کہ جب تک آپ یہ کام نہیں کریں گے، میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا اور آپ یہ کام کرسکتے ہیں تو آپ یہ کام کردینا چاہیے، تاکہ اس کی قسم نہ ٹوٹے۔
(3)
مياثر: ميثرة کی جمع ہے، وہ گدے جو زمین پر رکھے جاتے ہیں، جو عموماً ریشم اور دیباج سے بنائے جاتے ہیں اور کافر لوگ استعمال کرتے تھے، اگر ریشم اور دیباج کے ہوں تو حرام ہوں گے اور اگر ارغوانی ہوں تو کفار سے مشابہت کی صورت میں ناجائز ہوں گے۔
(4)
قَسِّيِّ: قس علاقہ میں ریشم سے بننے والے کپڑے، ریشم کی بنا پر ممنوع ہیں۔
(5)
إِسْتَبْرَقِ: موٹا ریشم، دِيبَاجِ: باریک ریشم، بہرحال ریشم کی ہر قسم حرام ہے۔
اسی مناسبت سے اس حدیث کو یہاں درج کیا گیا۔
(1)
مظلوم کی مدد کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی بھی مظلوم کی مدد کے لیے نہیں اٹھے گا تو سارا معاشرہ گناہ گار ہو گا۔
پہلے حاکم وقت کو اس کی مدد کرنی چاہیے کہ انصاف اس کی دہلیز پر پہنچایا جائے۔
اگر حاکم وقت کا ہونا نہ ہونا برابر ہے تو جو بھی اس کی مدد کر سکتا ہو وہ مدد کرے۔
(2)
اگر کسی نے نیک مقصد کے لیے قسم اٹھائی ہے تو اس کی مدد کی جائے اور اگر کسی غلط مقصد کے لیے ہے تو اسے خود چاہیے کہ اپنی قسم توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کرے تاکہ اسے قسم کی اہمیت کا احساس ہو۔
امام بخاری ؒ نے اس مقام پر مذکورہ حدیث اختصار کے ساتھ بیان کی ہے۔
اس کی تفصیل کتاب الادب اور کتاب اللباس میں بیان کی جائے گی۔
(1)
مذکورہ باتیں صرف چھ ہیں۔
راوی سے ساتویں بات رہ گئی ہے، وہ خالص ریشمی کپڑا پہننے سے منع کرنا ہے۔
(2)
قسم پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے کو قسم دے کر کام کہے تو اس کی قسم کی لاج رکھنی چاہیے اور اگر وہ گناہ کا کام نہ ہو تو اسے ضرور پورا کرنا چاہیے۔
اس حدیث کے مطابق إجابة الداعي، یعنی دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کے متعلق صیغۂ امر ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5177)
(1)
اس حدیث میں سلام کو عام کرنے کا حکم ہے کیونکہ اس سے اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص قضائے حاجت میں مصروف ہو تو اسے سلام نہیں کہنا چاہیے۔
حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں سلام کیا جب آپ پیشاب کے لیے بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
(جامع الترمذی، الطھارۃ، حدیث: 90) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں سلام نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی جہالت کی بنا پر سلام کہہ دے تو اس کے سلام کا جواب نہ دیا جائے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح آہستہ اور احتیاط سے سلام کہتے تھے کہ بیدار آدمی اسے سن لیتا اور سونے والا اس سے بیدار نہ ہوتا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5362(2055)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کرنے والے کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے سلام سے کسی سونے والے کی آنکھ نہ کھل جائے یا اس سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔
(3)
بہرحال سلام کہنا ایک اسلامی شعار ہے۔
اسے خوب پھیلانا چاہیے اور ایسی کثرت سے رواج دیا جائے کہ اسلامی دنیا کی فضا اس کی دلربا آواز سے گونج اٹھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ سلام کو عام کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسے گھر میں جائے جہاں کوئی بھی نہیں ہے تو اپنے آپ کو سلام کہہ کر اس میں داخل ہو۔
(فتح الباري: 25/11)
واللہ اعلم
اس حدیث میں مطلق طور پر چھینک مارنے والے کو جواب دینے کا حکم ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان میں اسے مشروط کیا ہے کہ جب وہ الحمدللہ کہے تو جواب دیا جائے جیسا کہ حدیث: 6221 میں ہے، نیز اس شخص کو بھی چھینک کا جواب نہ دیا جائے جو تین مرتبہ سے زیادہ چھینک مارے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ چھینکنے والے کو تین بار دعا دی جائے، اس سے زیادہ ہو تو اس شخص کو زکام ہے۔
(صحیح مسلم، الزھد، حدیث: 7489(2993)
نیز آپ نے فرمایا: جب کوئی چھینک مارے تو الحمدللہ کہے اور جو افراد اس کے پاس ہوں وہ اسے ''يرحمك الله'' سے جواب دیں، یعنی اللہ تجھ پر رحمتیں نازل فرمائے، پھر وہ جواب میں انہیں کہے: (يهديكم الله و يصلح بالكم)
’’اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات درست کرے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2741)
نیز اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔
اسی طرح سات کام جو منع ہیں ان میں سے یہاں پانچ مذکور ہیں وہ یہ ہیں سونے کی انگوٹھی پہننا، چاندی کے برتنوں میں کھانا۔
(1)
اس حدیث میں سات مامورات میں سے تین کا ذکر ہے، باقی یہ ہیں: دعوت قبول کرنا، سلام پھیلانا، مظلوم کی مدد کرنا اور دوسرے کی قسم کو سچا کرنا اور ممنوعات میں سے پانچ چیزوں کا بیان ہے باقی دو سونے کی انگوٹھی پہننا اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا ہے۔
(2)
سرخ ریشمی زین پوش کا استعمال بھی جائز نہیں کیونکہ ریشم کا بنا ہوتا ہے۔
ریشم کا لباس اور اس سے تیار شدہ بستر، گدے اور زین پوش بھی مردوں کے لیے منع ہیں، خواہ وہ سرخ ہوں یا کسی اور رنگ کے۔
حدیث میں سرخ رنگ کی قید اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ سرخ، زعفرانی رنگ کے زین پوشوں سے منع کیا گیا ہے۔
(سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5187)
اس قسم کے زین پوش خالص ریشم اور سرخ رنگ کے ہوتے ہیں، اس لیے ممنوع ہیں۔
واللہ أعلم
(1)
قسی، دیباج اور استبرق ریشم کی مختلف قسمیں ہیں۔
ہر قسم کا ریشم مردوں کے لیے حرام ہے۔
ریشمی كے گدے اور بچھونے مردوں کے لیے بالاتفاق حرام ہیں لیکن عورتوں کے لیے کچھ حضرات حلال سمجھتے ہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق عورتوں کو بھی ان کے استعمال سے احتیاط کرنی چاہیے، البتہ ریشمی لباس پہننے کی انہیں اجازت ہے۔
(2)
اس حدیث میں چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان کیا ہے۔
قسی کپڑے شام سے یا مصر سے بن کر آتے اور استبرق موٹا ریشمی کپڑا۔
یہ سب چھ چیزیں ہوئیں۔
ساتویں چیز کا بیان اس روایت میں چھوٹ گیا ہے۔
وہ ریشمی چار جاموں پر سوار ہونا یا ریشمی گدیوں پر جو زین کے اوپر رکھی جاتی ہیں۔
(1)
جن سات چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سے اس حدیث میں صرف چھے کا ذکر ہے، ساتویں چیز ریشمی گدیوں کا استعمال ہے جو سواری کی زین پر رکھی جاتی ہیں۔
اس کا ذکر بھی صحیح بخاری ہی کی حدیث: (5863)
میں ہے۔
ان مامورات و منہیات کو ہم آئندہ تفصیل سے بیان کریں گے۔
اس مقام پر صرف جنازے میں شریک ہونے کی مشروعیت کو بیان کرنا مقصود ہے، اس کی فضیلت کا بیان آگے آئے گا۔
(2)
جنازے کے آگے اور پیچھے دونوں طرف چلنا جائز ہے، لیکن لفظ اتباع کا تقاضا ہے کہ پیچھے پیچھے چلنا افضل ہے۔
علامہ البانی ؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
(أحکام الجنائز، ص: 96)
اگرچہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ سے جنازے کے آگے چلنا بھی ثابت ہے۔
(سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3179)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیمار کی تیمارداری کرو اور جنازوں میں شرکت کرو، وہ تمہیں آخرت یاد دلائیں گے۔
‘‘ (مسند أحمد: 32/3)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے، دائیں بائیں اور اس کے قریب ہو کر چل سکتا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3180)
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، اور سات باتوں سے منع فرمایا: ہمیں آپ نے مریض کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے، قسم پوری کرانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو عام کرنے، دعوت دینے والوں (کی دعوت) قبول کرنے، اور جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا، اور ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے، چاندی کے برتن (میں کھانے، پینے) سے، میاثر، قسّیہ، استبرق ۱؎، حریر اور دیباج نامی ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1941]
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: ” آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3809]