صحيح مسلم
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام
باب تَحْرِيمِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ: باب: مرد یا عورت کسی کو چاندی یا سونے کے برتن میں کھانا پینا درست نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ بس اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الَّذِي يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِكْرُ الْأَكْلِ وَالذَّهَبِ إِلَّا فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ .قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا: ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث سنائی۔ شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، محمد بن بشر، یحییٰ بن سعید، عبید اللہ، موسیٰ بن عقبہ اور عبدالرحمٰن سراج) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے (اوپر) انہی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا: ”بلاشبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے۔“ ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے (کے برتن) کا ذکر نہیں۔ صرف ابن مسہر کی حدیث میں ہے۔
وحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَّاشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ " .عثمان بن مرہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
يجر جر: غٹا غٹ، مسلسل آواز کے ساتھ۔
فوائد ومسائل: سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال، کھانے پینے کے لیے ہو یا کسی اور صورت کے لیے مثلا سرمہ دانی یا سلائی بنانا، ان میں تیل ڈالنا، جمہور کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ اس میں اسراف و تبذیر ہے اور انسان کے فخر و غرور اور خود پسندی کے جذبات ابھرتے ہیں، نادار اور محتاج لوگوں کی دل شکنی ہوتی ہے اور کافروں کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔
جب اونٹ صیحان میں چلاتا ہے پس معلوم ہوا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینے والے کے پیٹ میں دوزخ کی آگ اونٹ جیسی آواز پیدا کرے گی۔
اللھم أعذنا منھا آمین۔
(1)
عربی زبان میں جرجرة اونٹ کی اس آواز کو کہتے ہیں جو وہ ڈانتے وقت نکالتا ہے۔
ممکن ہے وہ پانی آگ بن جائے اور اس کے پیٹ میں جوش مارے جس سے اس قسم کی آواز پیدا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جہنم کی آگ کی حقیقی آواز ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
بہرحال چاندی وغیرہ کے برتن استعمال کرنا مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
فوائد ومسائل: (1)
چاندی اور سونے کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے۔
(2)
شرعی احکام کی مخالفت جہنم کے عذاب کاباعث ہے۔
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: الذي يشرب في إنآء الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں (کھاتا) پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 15]
«يُجَرْجِرُ» «جَرْجَرَةٌ» سے ماخوذ ہے۔ پیٹ میں داخل ہوتے وقت پانی سے جو گلے میں آواز پیدا ہوتی ہے اسے «جَرْجَرَة» کہتے ہیں۔
فائدہ:
اس حدیث میں بھی سونے چاندی کے برتنوں میں خورد و نوش کی ممانعت ہے اور اس ممانعت پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کے لیے جہنم کی آگ کی وعید ہے کہ ایسے لوگ نار جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
راویٔ حدیث:
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا: ان کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے۔ ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسود مخزومی کی زوجیت میں تھیں۔ حبشہ کی جانب پہلی ہجرت میں ان کے ساتھ تھیں، پھر دونوں مدینہ آ گئے تھے۔ غزوہ احد میں ابوسلمہ کو جو زخم لگا تھا اس کی وجہ سے وہ وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد شوال 4 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے حرم میں داخل فرما لیا۔ 59 یا 62 ہجری میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 84 برس تھی۔ بقیع قبرستان میں دفن ہوئیں۔
«. . . 262- مالك عن نافع عن زيد بن عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عبد الرحمن ابن أبى بكر الصديق عن أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”الذي يشرب فى آنية الفضة إنما يجرجر فى بطنه نار جهنم.“ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ (غٹ غٹ) بھرتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 395]
تفقه:
➊ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے۔
➋ کفار و مشرکین کے شعار کا استعمال یا ان کے ایسے امور سے مشابہت کرنا جن کی معانعت کتاب و سنت سے ثابت ہے، حرام ہے۔
➌ سونے اور چاندی کے برتن بنانا جائز نہیں۔
➍ اگر کوئی برتن ٹوٹ جائے تو اسے سونے یا چاندی کے تاروں سے جوڑنا جائز ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ ٹوٹ گیا تھا جسے چاندی کے تاروں سے جوڑا گیا تھا۔ یہ پیالہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار (دودھ یا پانی) پلایا تھا۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس پیالے کے لوہے کے حلقے کو ہٹا کر سونے یا چاندی کا حلقہ بنا دیں۔ جب سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پتا چلا تو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: «لاَ تُغَيِّرَنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیا ہے، اسے ہرگز تبدیل نہ کرنا۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 5638]
➎ فائدہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیالے کی ایسی جگہ سے پینا ممنوع قرار دیا گیا ہے جہاں سے وہ ٹوٹا ہوا ہو۔ دیکھئے: [المعجم الاوسط للطبراني 6829 وسنده حسن، نيز ديكهئے سنن ابي داود: 3722]