صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب لاَ يَعِيبُ الطَّعَامَ: باب: کھانے کا عیب بیان نہیں کرنا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَى شَيْئًا أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہ نکالا، اگر کسی چیز کی طلب خواہش ہوتی، اسے کھا لیتے اور اگر اس کو ناپسند کرتے چھوڑ دیتے۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .زہیر نے ہمیں سلیمان اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو داود الحفري كلهم ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَي مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کھانے میں عیب نکالتے نہیں دیکھا، جب اس کی اشتہاء (خواہش) ہوتی تو اسے کھا لیتے اور اگر اس کی اشتہاء نہ ہوتی، خاموش رہتے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ ساری باتیں مکروہ ہیں۔
پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
(1)
اس سے مراد حلال کھانا ہے کیونکہ حرام کھانے کی مذمت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
وہ تو سراپا عیب ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مذمت کرتے اور اسے کھانے سے منع فرماتے تھے۔
(2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ خلقت کے اعتبار سے اسے معیوب قرار دینا منع ہے، البتہ تیار شدہ کھانے پر عیب لگایا جا سکتا ہے لیکن الفاظ میں عموم ہے، کسی صورت میں اسے معیوب کہنا صحیح نہیں، خواہ بنانے اور تیار کرنے کے اعتبار سے کیوں نہ ہو۔
اس طرح کھانا تیار کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کھانے کے آداب میں سے ہے کہ اس میں عیب نہ نکالے جائیں کہ اس میں نمک نہیں ہے یا پھیکا ہے یا نمک زیادہ ہے یا اس کا شوربا اچھی طرح پکا ہوا نہیں ہے۔
یہ تمام باتیں مکروہ ہیں، البتہ پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 678/9)
(آمین)
اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ کبھی کسی کھانے کو معیوب قرارنہیں دیتے،اس کے برعکس دنیا پرست اور شکم پرور(پیٹو)
لوگ جو کھانے بیٹھتے ہیں تو لقمے لقمے میں عیب نکالنا شروع کردیتے ہیں اور ہمارے ہاں تو یہ عام رواج ہے کہ کھانا کھاتے وقت مرچ نمک کی کمی کا شکوہ شروع ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہمیں اس روش کا جائزہ لینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3763]
1۔
انسان اللہ کی نعمت کھانے سے رہ بھی نہ سکے۔
اور پھر اس کی عیب جوئی بھی کرے۔
یہ بہت بُری خصلت ہے۔
اگر کھانا تیار کرنے والے کی تقصیر ہوتو اس کو مناسب انداز سے سمجھا دینا چاہیے۔
2۔
اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا جا سکتا ہے۔
کہ انسان نے کسی شخص یا کسی ادارے سے کوئی معاہدہ طے کیا ہو۔
اور طے شدہ امور وشرائط پر معاملہ چل رہا ہو تو مناسب نہیں کہ اس ادارے یا افراد پر بلاوجہ معقول طعن وتشنیع کرے۔
یا تو بخیر وخوبی ساتھ نبھائے یا بھلے انداز سے جدا ہو جائے۔
تاہم نصیحت اور خیر خواہی کا اسلامی شرعی اور اخلاق حق اچھے طریقے سے ادا کیا جانا چاہیے۔