صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ: باب: مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے جبکہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .امام صاحب یہی روایت اپنے چار اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا ، قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ مِسْكِينًا ، فَجَعَلَ يَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ، قَالَ : فَقَالَ : لَا يُدْخَلَنَّ هَذَا عَلَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .واقد بن محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے نافع سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسکین کو دیکھا وہ اس کے سامنے کھانا رکھتے رہے رکھتے رہے کہا: وہ شخص بہت زیادہ کھانا کھاتا رہا انہوں (ابن عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: آیندہ یہ شخص میرے ہاں نہ آئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
حالانکہ اطباء کے قول کے آگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ایک مومن مسلمان کے لیے بہت بڑی حقیقت رکھتا ہے۔
پس آمنا بقول رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
(1)
ابو نہیک مکہ مکرمہ کا رہنے والا تھا۔
اس کے کہنے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ سات آنتوں میں کھانے اور ایک آنت میں کھانے سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد ہے کرید کیے بغیر میرا اس پر ایمان ہے۔
(2)
بہرحال کافر کے کھانے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور جو کافر ہیں وہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور حیوانوں کی طرح کھاتے ہیں۔
آخر کار ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
‘‘ (محمد: 12)
اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ زیادہ کھانے کی عادت چھوڑ دے اور تھوڑے کھانے پر قناعت کرے تاکہ اللہ کی عبادت میں سستی واقع نہ ہو۔
ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشند خدائے بخشندہ
(1)
مسلمان کے کم کھانے اور کافر کے زیادہ کھانے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مسلمان کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لیتا ہے جس وجہ سے شیطان کو اس کے ساتھ کھانے کا موقع نہیں ملتا، اس لیے جو وہ کھاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت شامل ہوتی ہے اور کافر کھانے کے آغاز میں اللہ کا نام نہیں لیتا، اس لیے شیطان اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاتا ہے، اس بنا پر کھانے کی برکت اٹھ جاتی ہے جیسا کہ بہت سی احادیث سے یہ چیز ثابت ہے۔
(2)
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک خوبی بیان ہوئی ہے کہ وہ مساکین کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس اسوہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
آمین
ایک کی بہت زیادہ پر خوری کو بیان کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔
حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مومن کم کھانے والا اور کافر زیادہ کھانے والا ہوتا ہے۔
مسلمان اس لیے کم کھاتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھانے سے سستی پیدا ہو جاتی ہے اور معدے میں گرانی آ جاتی ہے۔
مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ وہ عبادت کرنے میں سستی کرے، نیز زیادہ کھانے سے وضو جلدی ٹوٹ جاتا ہے، حالانکہ کچھ عبادت ایسی ہیں جن میں وضو شرط ہے۔
بہرحال ایک کی کم خوری اور دوسرے کی بسیار خوری بیان کرنے کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے مگر یہ اکثریت کے اعتبار سے ہے کیونکہ بعض لوگ مسلمان ہونے کے باوجود بہت کھاتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1818]
وضاحت:
1؎:
علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (1)
مومن اللہ کانام لے کر کھانا شروع کرتا ہے، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہوجاتی ہے، اور کافر چونکہ اللہ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم۔
(2)
مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے، اسی لیے کم کھاتا ہے، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتا ہے اسی لیے زیادہ کھاتا ہے۔
(3)
مومن آخرت کے خوف سے سر شار رہتا ہے اسی لیے وہ کم کھا کربھی آسودہ ہو جاتا ہے، جب کہ کافر آخرت سے بے نیاز ہوکر زندگی گزارتا ہے، اسی لیے وہ بے نیاز ہوکر کھاتا ہے، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔
علماء نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں: ① مومن اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھانا شروع کرتا ہے اس لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہو جاتی ہے اور کافر چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم
② مؤمن دنیاوی حرص وطمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے، اس لیے کم کھاتا ہے۔ جبکہ کافرحصول دنیا کا حریص ہوتا اس لیے زیادہ کھا تا ہے۔
③ مؤمن آخرت کے خوف سے سرشار رہتا ہے اس لیے وہ کم کھا کر بھی آسودہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ کافر آخرت سے بے نیاز ہو کر زندگی گزارتا ہے، اس لیے وہ بے نیاز ہو کر کھا تا ہے۔ پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔