صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ: باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي مَجْهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ، فَقَالَتْ : مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ، فَقَالَ : " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَتْ : لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي ، قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ ، قَالَ : فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: میں بھوکا ہوں تو آپ نے اپنی کسی بیوی کے پاس پیغام بھیجا، اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپ نے دوسری کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے بھی یہ بات کہی، حتی کہ ان سب نے یہی جواب دیا، نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس صرف پانی ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ”جو آج رات اس کی مہمان نوازی کرے گا، اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘ تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: میں، اے اللہ کے رسول! وہ اس کو لے کر اپنے گھر چلا گیا اور اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے میرے بچوں کی خوراک کے، اس نے کہا: انہیں کسی چیز سے بہلا دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ گل کر دینا اور اسے یوں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں تو جب وہ کھانے کے لیے بڑھے تو اٹھ کر چراغ بجھا دینا، سو وہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھا لیا، جب صبح ہوئی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”آج رات تم نے اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا، اللہ تعالیٰ اس پر بہت خوش ہوا۔‘‘
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : " نَوِّمِي الصِّبْيَةَ وَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 " .وکیع نے فضیل بن غزوان سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا، بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور جو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کر دو، تب یہ آیت نازل ہوئی: ”وَیُؤْثِرُونَ عَلَیٰ أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ“ وہ (دوسروں کو) خود پر ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں سخت احتیاج لاحق ہو۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ ، فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ اس کی مہمان نوازی کریں اور آپ کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ تھا، اس لیے آپﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص ہے، جو اس کی مہمان نوازی کرے، اللہ اس پر رحم فرمائے‘‘ تو ایک انصاری ابوطلحہ نامی کھڑا ہوا اور اسے اپنے گھر لے گیا اور آگے جریر کی طرح حدیث بیان کی اور وکیع کی طرح آیت کے اترنے کا تذکرہ کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
صفات الہیہ کو بغیر تاویل کے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔
ایمان کے سلامتی اسی میں ہے کہ صرف مسلک سلف کا اتباع کیا جائے اور بس۔
انصار کی مہاجرین کے بارے میں ایثار اور ہمدردی لازوال، باکمال اور بے مثال تھی۔
اس کے متعلق درج ذیل خوبصورت واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارا کرا دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دولت مند تھے۔
انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان سے سب سے زیادہ مال دار ہوں، اب میں اپنا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اس کی عدت گزر جانے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3781)
کیا اس قسم کا ایثار دنیا کی تاریخ میں ملتاہے؟!