حدیث نمبر: 2048
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ " .

عبداللہ بن ابی عتیق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مدینہ کے) بالائی حصے کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے یا (فرمایا:) صبح کے اول وقت میں ان کا استعمال تریاق ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2048
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مدینہ کے بالائی علاقہ کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے، یا ان کا صبح صبح کھانا تریاق ہے، یعنی زہر کا اکسیر علاج ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5341]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مدینہ کے بالائی علاقہ کی عجوہ میں ہی خصوصی طور پر شفاء رکھی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2048 سے ماخوذ ہے۔