حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا " .

حفص بن غیاث نے مصعب بن سلیم سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گھٹنے کھڑے کر کے تھوڑے سے زمین پر لگ کر بیٹھے تھے۔ کھجوریں کھا رہے تھے۔

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا " ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلًا حَثِيثًا .

زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سلیم سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے ان کو تقسیم فرمانے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنے لگے ہوں (بیٹھنے کی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہوئی دوسرے لفظوں میں بتائی گئی ہے) اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھا رہے تھے۔ زہیر کی روایت میں ذَریعًا کے بجائے حَثِیثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2044
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3771 | مسند الحميدي: 1255

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرین کے بل بیٹھ کر، پنڈلیاں کھڑی کرکے کھجوریں کھاتے دیکھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5331]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تواضع اور انکساری کے ساتھ کھاتے تھے، متکبرین اور ان لوگوں کی طرح نہیں کھاتے تھے جو کھانا پینا ہی مقصد زندگی سمجھتے ہیں اور ایسے طریقہ سے بیٹھتے ہیں، جس سے خوب کھایا جا سکے، اس لیے آپ پوری طرح چوکڑی مار کر، خوب کھانے کے لیے نہیں بیٹھتے تھے، بلکہ جلدی جلدی فارغ ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2044 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3771 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟`
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3771]
فوائد ومسائل:
توضیح: (إقعاء) یعنی اس طرح زمین پر بیٹھ جانا کہ پنڈلیاں سامنے کھڑی ہوں۔
اس صورت میں بعض اوقات پیچھے سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔
لہذا اس سے یہ استشہاد کیا جا سکتا ہے۔
کہ بیماری اور کمزوری وغیرہ کی صورت میں سہارا لینا جائز ہے۔
فتح الباری میں ہے کہ ایک روایت میں (مقع) کی بجائے (محتفز) کا لفظ آیا ہے۔
یعنی اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔
بہرحال عام روایات سے ثابت ہے کہ سہارا لے کر (ٹیک لگا کر) کھانا سنت کے خلاف ہے۔
علامہ خطابی خوب جم کر اور بکھر کر کے بیٹھنے کو بھی (اتکا) میں شمار کرتے ہیں۔
جیسے کہ آلتی پالتی مار کر بیٹھنا کہ اس صورت میں انسان بہت زیادہ کھانا کھا لیتا ہے۔
الا یہ کہ کوئی عذرہو۔
علمائے کرام (غزالی وغیرہ) افضل صورت یہ بتاتے ہیں کہ گھٹنوں کے بل بیٹھے یا دایاں گھٹنا کھڑا کیا ہو۔
اور بایئں پر بیٹھ جائے جیسے کہ بعض دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3771 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1255 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1255- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لائی گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر آرام دہ حالت میں (یعنی پاؤں کے بل) بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے انہیں کھا رہے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1255]
فائدہ:
اس حدیث میں کھانا بیٹھ کر کھانے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے بعض روایات میں (مقعیا) کے الفاظ ہیں۔ (صـحـيـح مـسـلـم: 2044) اس کے معنی ہیں: پنڈلی اور ران کو ملا کر کولہوں پر بیٹھنا۔ (نیز دیکھیں: ارواء الغليل: 29/7) آہستہ آہستہ کھانا کھانا اچھا نہیں ہے، بلکہ جلدی جلدی کھانا کھانا چاہیے، کھجور کھانے کو زندگی کا معمول بنا نا چا ہیے، اس کے بہت سے فوائد ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1253 سے ماخوذ ہے۔