صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لأَهْلِ الطَّعَامِ وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ: باب: کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي ، قَالَ : فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، قَالَ شُعْبَةُ : هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ ، فَقَالَ أَبِي : وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَقَالَ : " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے۔ (کھانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان (غالب) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا اس (حدیث) میں ہے۔ پھر (آپ کے سامنے) مشروب لایا گیا۔ آپ نے اسے پیا، پھر اپنی دائیں جانب والے کو دے دیا۔ (عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے والد نے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی عرض کی: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ .امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے، شعبہ کی اس سند سے روایت کرتے ہیں اور دو انگلیوں میں رکھ کر گٹھلی پھینکنے کے بارے میں شک کا اظہار نہیں کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے باپ کے پاس آئے، ہم نے آپ کے کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کھایا، پھر آپ کے لیے کچھ کھجوریں لائی گئیں، تو آپ کھجوریں کھانے اور گھٹلی اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی (شہادت اور بیچ کی انگلی سے (دونوں کو ملا کر) پھینکتے جاتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: جو میں کہہ رہا ہوں وہ میرا گمان و خیال ہے، اللہ نے چاہا تو صحیح ہو گا، آپ دونوں انگلیوں کے بیچ میں گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے تھے، پھر آپ کے سامنے پینے کی کوئی چیز لائی گئی تو آپ نے پی اور اپنے دائیں جانب ہا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3576]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں بخش دے اور ان پر رحمت نازل فرما۔
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3729]
1۔
اس حدیث سے واضح ہوا کہ نبی کریم ﷺنے کھائی ہوئی کھجوروں کی گھٹلیاں اسی برتن میں نہیں ڈالیں۔
بلکہ علیحدہ رکھیں کیونکہ نفیس طبایع پر بات بہت ناگوار گزرتی ہے۔
تو اس طرح پانی کے برتن میں سانس لینا بھی دوسروں کوبُرا لگتا ہے۔
2۔
مشروب پینے کے بعد آپ نے دایئں طرف والے کو یا۔
3۔
اصحاب فضل والے کی تکریم کرنا جس طرح میزبان نے رسول اللہ ﷺ کی تکریم کی پسندیدہ بات ہے۔
4۔
میزبان اپنے مہمان سے دعا کی درخواست کرسکتا ہے۔
5۔
کھانے کے بعد دعا کرنا سنت ہے۔
اور جو دعا رسول اللہ ﷺنے فرمائی وہی دعا کرنا افضل ہے۔