صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ: باب: شوربہ کھانا اور کدو کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : " فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ ، قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے آپ کے لیے تیار کردہ کھانے کے لیے آپ کو بلایا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں تو میں بھی اس کھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا، جس میں کدو اور خشک گوشت تھا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپﷺ پلیٹ کے اطراف سے کدو تلاش کر رہے ہیں، اس لیے میں اس دن سے کدو پسند کرنے لگا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، " فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ وَيُعْجِبُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ " .سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ آپ کے لیے شوربہ لایا گیا اس میں کدو (بھی) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کھانے لگے وہ آپ کو اچھا لگ رہا تھا۔ جب میں نے یہ بات دیکھی تو میں کدو (کے ٹکڑے) آپ کے سامنے کرنے لگا اور خود نہ کھایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن کے بعد سے مجھے کدو بہت اچھا لگتا ہے۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَادَ ، قَالَ ثَابِتٌ : فَسَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلَّا صُنِعَ .معمر نے ثابت بنانی اور عاصم احول سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کر سکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جائے تو ڈالا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے باب کا مسئلہ ثابت ہوا۔
(1)
اگرچہ میزبان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ کھانے کے دوران میں مہمان کے پاس بیٹھے تاکہ اگر اسے کوئی ضرورت ہو تو وہ پوری کی جا سکے لیکن ایسا ضروری نہیں جیسا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق درزی غلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا اور خود اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ میزبان کا مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا ضروری نہیں، البتہ اگر مہمان اصرار کرے کہ میزبان میرے ساتھ بیٹھ کر کھائے تو ایسے حالات میں پیچھے رہنا مروت کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مہمانوں نے اصرار کیا تھا۔
(فتح الباری: 9/696) w
ایمان کی یہی نشانی ہے کہ جو چیز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے، اسے مسلمان بھی پسند کرے۔
امام ابویوسف شاگرد امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے مجھ کو تو پسند نہیں ہے۔
امام ابویوسف نے کہا کہ گردن کا ہتھیار لاؤ یہ شخص مرتد ہو گیا ہے، اس کی گردن مار دی جائے جو مرتد کی سزا ہے۔
یہاں سے مقلدوں کو سبق لینا چاہیئے کہ ان کے امام یوسف نے کھانے پینے کی سنتوں میں بھی ایسا کلمہ کہنا باعث کفر قرار دیا تو عبادت کی سنتوں میں جیسے آمین بالجہر اور رفع یدین وغیرہ سنن نبوی ہیں۔
اگران کے بارے میں کوئی شخص ایسا کلمہ کہے اور ان سنتوں کی تحقیر کرے تو وہ کس قدر گنہگار ہوگا اور شرعی اسٹیٹ میں اس کی سزا کیا ہو سکتی ہے۔
یاد رکھنا چاہیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی سی سنت کی بھی تحقیر کرنا کفرہے، پھر ان نام نہاد علماء پر کس قدر افسوس ہے جنہوں نے عوام مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے سنت نبوی پر عمل کرنے والوں کو برے برے القاب سے ملقب کر دیا ہے۔
کوئی اہل حدیث کو غیر مقلد کہتا ہے، کوئی لا مذہب کہتا ہے، کوئی وہابی کہتا ہے، کوئی آمین والوں سے ملقب کرتا ہے۔
یہ سارے القاب بغرض توہین زبان پر لانے گناہ کبیرہ کی حد تک پہنچانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کونیک ہدایت دے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی توہین کر کے اپنی آخرت خراب کرنے سے باز آئیں۔
(آمین)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں کدو کے ٹکڑے تلاش کر کے آپ کے سامنے کرتا اور خود نہیں کھاتا تھا تاکہ آپ کھائیں۔
اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ جب بھی سالن بناتے تو اس میں کدو ضرور استعمال کرتے۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5325، 5326، 5327 (2041) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے اہل و عیال اور خدام کے ساتھ کھانا کھاتے وقت برتن میں سے جہاں چاہے چن چن کر کھا سکتا ہے بشرطیکہ ساتھ کھانے والا اسے ناپسند نہ کرے، بصورت دیگر وہ اپنے سامنے ہی سے کھائے۔
(فتح الباري: 651/9)
گرم ملکوں میں جیسا کہ عرب ہے اس کا کھانا بہت ہی مفیدہے۔
حرارت، جگر اور تشنگی کو رفع کرتا ہے اور قابض نہیں ہے نہ ریاح پیدا کرتا ہے۔
جلد جلد ہضم ہونے والی اور بہترین غذا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پسند فرمانے کی وجہ سے اہل ایمان کے لیے بہت ہی پسندیدہ ہے اورہم خرما و ہم ثواب کا مصداق ہے جو چیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرمائیں اس کو بہر حال پسند کرنا دلیل ایمان ہے۔
تعجب ہے ان مقلدین جامدین پر جو ظاہر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دم بھرتے اور عملاً بہت سی سنن نبوی سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔
ایسے مقلدین کوسوچنا چاہیئے کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکیا منہ دکھائیں گے۔
گوشت اور کدو کے شوربے میں جب روٹی کے ٹکڑے ڈال کر ثرید تیار کیا جائے تو بہت عمدہ اور لذیذ غذا بن جاتی ہے۔
گرم ممالک میں اس قسم کا کھانا بہت مفید ہوتا ہے یہ پیاس اور جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔
اس سے قبض نہیں ہوتی بلکہ جلدی ہضم ہونے والا کھانا ہے۔
اس سے ریاح پیدا نہیں ہوتیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے کھانے کو بہت پسند کرتے تھے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کدو ایک عمدہ ترکاری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسند کرنے کی وجہ سے اہل ایمان بھی اسے پسند کرتے ہیں۔
واللہ المستعان
امام احمد نے روایت کیا ہے کہ کدو آپ کوسب کھانوں میں زیادہ پسند تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈی میں کدو زیادہ ڈالو اس سے آدمی کا رنج دفع ہو تا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کدو اور خرما وہ دونوں جنت کے میوے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ کدو سے دماغ کو طاقت ہوتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ کدو بصارت کو قوی کرتا ہے اور قلب روشن کرتا ہے۔
طبی طور پر کدو کی کئی ایک خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند فرماتے تھے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گیا تو وہاں کدو دیکھے۔
میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ کدو ہیں۔
ہم انہیں کھانے میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأطعمة، حدیث: 3304)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا من پسند کھانا کدو ہوتا تھا۔
(مسند أحمد: 204/3)
گوشت کو صاف کر کے پھر اس کے ٹکڑوں پر نمک لگا کر دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔
اس خشک کیے ہوئے گوشت کو عربی زبان میں "قَدِید" کہتے ہیں۔
بعض خواتین گوشت کو ابال کر خشک کر لیتی ہیں پھر اسے دیر تک استعمال کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین خشک گوشت استعمال کرتے تھے۔
آج کل فریزر کا دور ہے، اس میں اسے محفوظ کیا جاتا ہے، پھر کئی کئی مہینے کارآمد رہتا ہے۔
اگر کوئی شکم سیر ہو رہا ہو اسے کھانا دینا اس کی اجازت کے بغیر غلط ہوگا۔
(1)
ثمامہ کی روایت سے امام بخاری رحمہ اللہ نے قائم کردہ عنوان ثابت کیا ہے کہ ایک دستر خوان والے دوسرے شخص کو جو اس دستر خوان پر بیٹھا ہو کھانا اٹھا کر دے سکتا ہے، خواہ کھانا ایک برتن میں ہو یا علیحدہ علیحدہ برتنوں میں، مگر جس کو کھانا دیا جائے اس کی مرضی اور چاہت کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر کسی کا پیٹ بھر گیا ہو تو اسے مزید کوئی چیز اٹھا کر دینا اس پر زیادتی کرنا ہے، اس کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا درست نہیں ہے۔
واللہ أعلم
سچ ہے۔
إن المحب لمن یحب مطیع۔
جعلنا اللہ منھم آمین۔
تشریح: حضرت امام مالک بن انس بن اصبحی امام دار الہجرت کے لقب سے مشہور ہیں۔
سنہ 95 ھ میں پیدا ہوئے اور بعمر 84 سال سنہ۔
179 ھ میں انتقال فرمایا۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کسی حدیث کی سند حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچ جاتی ہے تو وہ حدیث نہایت اعلیٰ مقام صحت تک پہنچ جاتی ہے۔
حضرت امام شافعی اور حضرت ہارون رشید جیسے ایک ہزار علماء اور وہ لوگ ان کے شاگرد ہیں۔
اس حدیث میں شوربے کا ذکر ہے بلکہ ایک حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم ہنڈیا پکاؤ تو اس میں شوربا زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کے حصے کا پانی بھی اس میں ڈال دو۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأطعمة، حدیث: 1833)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹ ذبح کیے، پھر ہر اونٹ سے گوشت لے کر اسے پکایا، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھایا، پھر ان دونوں حضرات نے اس کا شوربا پیا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950 (1218)
کدو نہایت عمدہ ترکاری ہے یعنی لمبا کدو سرد تر اور دافع تپ و خفقان و دافع حرارت و خشکی بدن ہوتا ہے اور قبض بواسیری کو دفع کرتا ہے۔
پیٹھے کی بھی یہی خاصیت ہے۔
گو کدو کھانا دین کا تو کوئی کام نہیں ہے کہ اس کی پیروی لازم ہو، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ا سکی مقتضی ہے کہ ہر مسلمان کدو سے رغبت رکھے جیسے انس رضی اللہ عنہ نے کیا۔
(وحیدی)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنے والے صحابی خیاط تھے۔
درزی کا کام کیا کرتے تھے۔
اس سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے درزی کا کام ثابت فرمایا۔
(1)
درزی کا پیشہ دوسری صنعتوں سے الگ نوعیت کا ہے کیونکہ زرکر اور لوہار صرف اپنی محنت کی مزدوری لیتے ہیں جبکہ درزی کے پیشے میں دھاگا اور بٹن وغیرہ درزی خود اپنی طرف سے لگاتا ہے۔
علاوہ ازیں سلائی مشین کی الگ اجرت ہے لیکن انھیں ایک دوسرے سے سےالگ نہیں کیا جاسکتا۔
گویا اس میں تجارت اور صنعت دونوں جمع ہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک درزی نے آپ کو کھانا تناول فرمانے کی دعوت دی آپ نے اسے شرف قبولیت سے نوازا۔
اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اس پیشے کے جواز کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
(عمدۃ القاری: 8/363) (3)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت میں پکا ہوا کدو بہت مرغوب تھا، ویسے بھی یہ ایک عمدہ ترکاری ہےاور طبعی لحاظ سے بہت فائدہ مند اور نفع بخش ہے،بخار، خفقان، قبض اور بواسیر کے لیے مفید، نیز مانع خشکی وحرارت ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3782]
1۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی رسول اللہ ﷺ سے انتہائی محبت کا یہ مظہرتھا کہ شرعی امور کے علاوہ عام عادات میں بھی وہ آپﷺ کی اقتداء کرتے تھے۔
اور آپ ﷺ بھی بلاامتیاز ان کی دعوتیں قبول فرماتے تھے۔
نیز درزی کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی عیب نہیں۔
2۔
دوسری حدیث میں جو آیا ہے کہ کھانا اپنے سامنے میں سے کھانا چاہیے۔
تو ان احادیث میں تطبیق یوں ہے کہ جب کھانے میں مختلف اشیاء ہوں۔
اور کوئی نسبتا ً کم درجے کی چیز تلاش کرکے کھانا چاہے جسے کھانے میں شریک ساتھی بھی ناگوار نہ سمجھیں تو جائز ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کی اسطرح تربیت فرمائی کہ کھانے کی نسبت کم قیمت چیز بھی رغبت سے کھانی چاہیے۔
کیونکہ ہر چیز کے اپنے اپنے فائدے ہیں۔
جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اور اب جدید العلم الاغذیہ نے اس بات کو خصوصا سبزیوں کے فائدے کو اپنے طریق پر واضح کر کے رسالت مآب ﷺ کی سنت کی حکمت کو اجاگر کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، (غلام نے) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3303]
فوائد و مسائل:
(1)
اس غلام کا پیشہ درزی تھا۔ (صحیح البخاری، الأطعمة، باب المرق، حديث: 5436)
(2)
اہل عرب گوشت کو لمبے ٹکڑوں میں کاٹ کر خشک کر لیتے ہیں اور بعد میں حسب ضرورت استعمال کرتے ہیں۔
اسے قدید کہتےہیں۔
یہ گوشت اسی قسم کا تھا۔ (حوالہ مذکورہ)
(3)
اس سالن کے ساتھ ثرید بنانے کےلیے جو کے آٹے کی روٹی پیش کی گئی تھی۔ (صحیح البخاری، الأطعمة، باب من ناول أو قدم إلى صاحبه على المائدة شيئاً، حديث: 5439)
(4)
كم درجے والے آدمی کی دعوت بھی قبول کرنی چاہیے۔
(5)
خادم کے ساتھ مل کھانے میں تواضع کا اظہار اور فخر وتکبر سےاجتناب ہے اس لیے یہ ایک اچھی عادت ہے۔
(6)
استاد اور بزرگ کی پسند کاخیال رکھنا بھی اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
(7)
ہدیہ دینا اور قبول کرنا مستحسن ہے۔
(8)
ہدیہ قبول کرکے دوسروں کو دیا جاسکتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو پسند تھا، اور جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہوتی تھی وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی پسند ہوتی تھی، جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دنیاوی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کردہ چیزیں پسند ہوتی تھیں تو دینی معاملات میں کیوں پسند نہ ہوں؟