حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وتقاربا في اللفظ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ وَيْحَكَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، قَالَ : فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ ، وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ " ، قَالَ : لَا بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .

حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ ابوشعیب نامی انصاری کا گوشت فروخت غلام تھا، انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر بھوک کے اثرات محسوس کر لیے تو اپنے غلام سے کہا، تم پر افسوس! ہمارے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر، کیونکہ میں پانچوں میں پانچواں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینا چاہتا ہوں، اس نے کھانا تیار کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پانچوں میں پانچواں آپ کو بلایا اور ایک آدمی نے ان کا پیچھا کیا تو جب دروازے پر پہنچ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے، اگر چاہو تو اسے اجازت دے دو اور چاہو تو یہ واپس چلا جائے۔‘‘ انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! واپس نہ جائے، کیونکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ،

امام صاحب یہی حدیث اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے اعمش ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّاد ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .

عمار بن رزیق نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز زہیر نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے، انہوں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز (زہیر نے) اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2036
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ ابوشعیب نامی انصاری کا گوشت فروخت غلام تھا، انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر بھوک کے اثرات محسوس کر لیے تو اپنے غلام سے کہا، تم پر افسوس! ہمارے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر، کیونکہ میں پانچوں میں پانچواں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینا چاہتا ہوں، اس نے کھانا تیار کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پانچوں میں پانچواں آپ کو بلایا اور ایک آدمی نے ان کا پیچھا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5309]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اگر کسی مہمان کے ساتھ بن بلایا مہمان چل پڑے اور مہمان اس کو ضرورت مند سمجھتا ہو، یا یہ خیال کرتا ہو کہ میزبان اس کو اجازت دے دے گا تو وہ اس کو ساتھ لے جا سکتا ہے اور میزبان کو اگر کوئی روکاوٹ نہ ہو تو اس کو اجازت دے دینی چاہیے، اگر گنجائش نہ ہو یا کوئی اور وجہ ہو تو اس کو واپس بھی کر سکتا ہے اور مہمان کو میزبان سے اصل حقیقت بیان کر دینی چاہیے اور بڑا اپنے چھوٹوں کی دعوت قبول کر سکتا ہے اور بظاہر ہر حقیر پیشوں والے، اگر ان میں کوئی خرابی نہ ہو تو ان کی دعوت قبول کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2036 سے ماخوذ ہے۔