حدیث نمبر: 2034
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ ، قَالَ : وَقَالَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ " ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے اور آپﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت دہ چیز زائل کر دے اور اس کو کھا لے اور شیطان کے لیے اسے نہ چھوڑے‘‘ اور آپ ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا، فرمایا: ”کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت اور فیض بخشی ہے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2034
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1803 | سنن ابي داود: 3845 | معجم صغير للطبراني: 655

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1803 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے ۱؎، آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر جائے تو اس سے گرد و غبار دور کرے اور اسے کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، آپ نے ہمیں پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1803]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نبی اکرمﷺ نے کھانے کے لیے جن تین انگلیوں کا استعمال کیا وہ یہ ہیں: انگوٹھا، شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1803 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3845 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھاتے میں نوالہ گر جائے تو کیا کرنا چاہئے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3845]
فوائد ومسائل:

اس حدیث اور اگلی دونوں احادیث کی رو سے کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ لینا یا چٹوا لینا سنت ہے۔


گرا ہوا لقمہ اٹھا کر صاف کرکے کھا لینا چاہیے۔


قابل استعمال کھانے کو ضائع کرنا شیطان کو دینا ہے۔


اپنی پلیٹ میں کھانا اتنا ہی لینا چاہیے جتنی ضرورت ہو اور پھر آخر میں برتن کو خوب صاف کرنا چاہیے۔
یہ کوئی معیوب کام نہیں بلکہ عین سنت ہے۔
اور اس میں غرور اور تکبرکا علاج بھی ہے۔
اس طرح روٹی کے ٹکڑے بھی ضائع کرنا جائز نہیں۔
نامعلوم کس میں برکت ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3845 سے ماخوذ ہے۔