حدیث نمبر: 2033
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ ، وَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ " .

سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے اس کے کس حصے میں برکت ہے۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .

عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان (ثوری) رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا لے اور اس پر جو ناپسندیدہ چیز (تنکا، مٹی) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کر لے اور اسے کھا لے، اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے، اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا وَمَا بَعْدَهُ .

یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں، ان کی حدیث میں بھی ہے ”وہ اپنا ہاتھ تولیے سے صاف نہ کرے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوائے‘‘ اور اس کے بعد والا حصہ۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”شیطان تمہارے ہر معاملہ کے وقت آجاتا ہے، حتی کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی آ جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت کا باعث چیز زائل کرکے اس کو کھالے، اس کو شیطان کے لیے نہ پڑا رہنے دے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے علم نہیں ہے اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔‘‘

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ .

امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ”اذا سقطت لقمة احدكم‘‘

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَان َ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .

محمد بن فضیل نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (انگلیاں) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اور لقمے کا ذکر کیا، ان دونوں (جریر اور ابومعاویہ) کی حدیث کی طرح۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2033
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2033 | سنن ترمذي: 1802 | سنن ابن ماجه: 3270 | سنن ابن ماجه: 3279

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2033 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس کو اٹھائے اور اس کو لگنے والی تکلیف دہ چیز (مٹی، ریت اور تنکے وغیرہ) دور کر کے اس کو کھالے اور جب تک اپنی چاٹ نہ لے، اپنا ہاتھ رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے، اس کے کھانے کے کس حصہ میں خیر و برکت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5301]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب انسان کھانا شروع کر دیتا ہے تو اس کا اکثر حصہ اس کے پیٹ میں چلا جاتا ہے، کچھ برتن کو لگ جاتا ہے، کچھ انگلیوں کو لگ جاتا ہے، بعض دفعہ کچھ برتن میں رہ جاتا ہے اور کوئی لقمہ گر جاتا ہے، اب انسان کو معلوم نہیں ہے، کھانے کے ان سب اجزاء میں سے کون سا حصہ یا جز اس کے لیے خیر و برکت اور سیری کا باعث ہے اور اس کے لیے وقت و طاقت کا سبب ہے، اس لیے اسے ان تمام اجزاء کو استعمال کرنا چاہیے، کوئی حصہ چھوڑنا نہیں چاہیے، حتی کہ گرنے والا لقمہ بھی اسی طرح گرے پڑے نہیں رہنا دینا چاہیے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے برتن میں اتنا ہی کھانا ڈالنا چاہیے جتنا کھانا ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2033 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2033 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’شیطان تمہارے ہر معاملہ کے وقت آجاتا ہے، حتی کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی آ جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت کا باعث چیز زائل کرکے اس کو کھالے، اس کو شیطان کے لیے نہ پڑا رہنے دے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے علم نہیں ہے اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5303]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان ہر وقت اور ہر آن انسان کی تاک میں رہتا ہے، وہ جب بھی کوئی کام شروع کرتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے، میرا بھی اس کام میں کچھ حصہ پڑ جائے، اس لیے وہ اکسا کر اس سے کوئی نہ کوئی کام دینی ہدایات و تعلیمات کا منافی کروا لیتا ہے، جس طرح گرنے والا لقمہ کو اٹھانا وہ اسے اپنی شان کے منافی باور کرواتا ہے اور اس کو خست و کمینگی بتاتا ہے، اس طرح انسان اس کے چکمے میں آ کر لقمہ اس کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ شیطان کا داؤ چل گیا ہے، ہاں اگر لقمہ ناپاک جگہ میں گر جائے یا اس کو صاف کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اسے بلی، کتے کو ڈال دے، اس کو ضائع نہ کرے، کیونکہ شریعت کسی معمولی چیز کا ضیاع بھی گوارا نہیں کرتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2033 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1802 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گر جائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ۱؎، اسے پھر کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1802]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے، اسے کھالے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیوں کہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہوگی، لیکن اس کابھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے صاف کرکے کسی جانور کو کھلادے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3270 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(کھانے کے بعد) انگلیاں چاٹنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3270]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کےبعد ہاتھ کی انگلیوں کو زبان سے صاف کر لینا چاہیے۔

(2)
غذا کا معمولی حصہ ضائع کرنا بھی نعمت کی ناشکری ہے۔

(3)
بغیر صاف کیے ہاتھ کو کپڑے سے پونچھنا یا پانی سے دھونا مناسب نہیں کیونکہ اس طرح کپڑا خراب ہو گا یا پانی ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا پڑے گا اور ہاتھ کو لگے ہوئے غذا کے ذرات نانی میں جائیں گے جو رزق کی نعمت کی ناقدری ہے۔

(4)
برکت ایک معنوی اور غیر محسوس چیز ہے۔
اس کے حصوں کےلیے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور رزق کو ضائع کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(5)
کسی سے چٹوانا اس وقت درست ہے جب دوسرا آدمی اس میں کراہت محسوس نہ کرے مثلاً: بیوی یا اولاد وغیرہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3270 سے ماخوذ ہے۔