صحيح مسلم
كتاب الأشربة— مشروبات کا بیان
باب كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا: باب: کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا " .ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے ڈانٹ کر منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ : " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " ، قَالَ : قَتَادَةُ ، فَقُلْنَا : فَالْأَكْلُ ، فَقَالَ : " ذَاكَ أَشَرُّ أَوْ أَخْبَثُ " .سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ قتادہ نے کہا: ہم نے پوچھا اور (کھڑے ہو کر) کھانا؟ تو (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ زیادہ برا اور گندا (طریقہ) ہے۔
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ .ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور قتادہ کا قول ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3717]
فائدہ: یہ رسول للہ ﷺ کی تلقین ہے۔
پانی بھی حتی الامکان بیٹھ کر پیناچاہیے۔
یہ نہی تنزہیی ہے۔
اور بلاوجہ کھڑے ہوکر پینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
اس موضوع میں کئی احادیث آئی ہیں۔
ان تمام کو پیش نظر رکھا جائے۔
تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام آرام سے بیٹھ کر پینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اور رسول اللہﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔
البتہ اگر ضرورت ہو تو کھڑے ہوکر پینا بھی جائز ہے۔
جیسے اگلی روایت سے واضح ہوتا ہے۔
لیکن اسے معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
فوائد و مسائل:
بعض علماء نے ممانعت کو کراہت پرمحمول کیا ہے۔
یعنی بیٹھ کرپینا بہتر ہے۔
بعض نے کھڑے ہوکر پینا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے یعنی نبی کریمﷺ کےلئے جائز تھا۔
ہمیں منع کی حدیث پرعمل کرنا چاہیے احتیاط اس میں ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے اجتناب کیا جائے۔